Tuesday, March 4, 2014

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 19) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 19






خورشید احمد فارق
اقتصادی معاملات میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے تصرفات
عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بدلتے ہوئے حالات  کے تقاضوں  کے زیر اثر رسول اللہ اور شیخیں کے مالی طریق کار میں جو تصرف کیا اس کی تفصیل ہماری معلومات کی حد تک حسب ذیل ہے:
(1)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف جہادی سر گرمیوں کی کامیابی میں گھوڑے کی مرکزی اہمیت اور دوسری طرف اس کی گرانی و خوراک کی مشکلات ملحوظ رکھتے ہوئے گھوڑے پر زکات نہیں لگائی تھی ۔ اس چھوٹ کامقصد یہ تھا کہ مسلمانوں  میں گھوڑا پالنے کا حوصلہ بڑھے اور اونٹ کی جگہ جس کی میدان میں افادیت بہت محدود تھی گھوڑے پر بیٹھ کرجہاد کیا کریں جس کی چستی ، پھرتی اور تیز رفتاری اپنے سوار میں دفاع اور  حملے کی غیر معمولی  صلاحیت  پیدا کردیتی تھی ۔ شیخین کے عہد میں بھی گھوڑے پر زکات معاف تھی خواہ وہ جہاد کے لئے رکھا جاتا یاسواری کے لئے ۔ فقیہہ حجاز ابن شہاب زُہری ( مُتوفیٰ 124 ؁ ھ ) کی رائے ہے کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین کے عمل سے انحراف کر کے گھوڑے پر زکات لگادی تھی ۔ قانون کی قدیم ترین کتابوں  مثلاً شافعی کی اُم ، مالک کی مُوطاّ ، یحی بن آدم قُریشی او رابو یوسف کی کتاب الخراج او رابن سَلّام کی کتاب  الاّ موال نے اس خبر کا کوئی ذکر  نہیں کیا ہے اس کے باوجود خبر کے صحیح ہونے کے قرینے موجود ہیں ۔ ایک قرینہ یہ ہے کہ جزیرۃ العرب  اور دور و نزدیک کی کئی عظیم اور وسائل سے بھر پور ملکوں کی سیاسی و اقتصادی  تسخیر  کے بعد گھوڑے کی اتنی اہمیت باقی نہیں رہی تھیں جتنی ہجرت کے ابتدائی رسالوں میں تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مہاجر ساتھی دشمنوں اور مالی پریشانیوں  سے گھرے ہوئے تھے، دوسرا قرینہ یہ ہے کہ عرب فوجوں  کو حکومت کی طرف سے گھوڑے ملنے لگے تھے اور شخصی  طور پر گھوڑے رکھنے کی ضرورت نہیں رہی تھی ۔ تیسرا قرینہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مادی خوش حالی کے زیر اثر بہت سے مسلمانوں نے اونٹ اورگدھے یا خچر کی سواری ترک کرکے عربی اور ترکی گھوڑوں کی سواری  اختیار کر لی تھی اور اسے اپنے تمول اور شان کے اظہار کی علامت بنا لیا تھا ۔
 

No comments:

Post a Comment