Thursday, May 8, 2014

Human Organ Transplant اعضا ء کی پیوند کاری






حسین امیر فرہاد
عینک عربی لفظ ہے معنی  ہے تیری آنکھ عیونک کے معنی ہے تیری آنکھیں ۔ مگر ہمارے ہاں  عینک اسے کہتے ہیں جس کی ڈنڈیاں کانوں سے لپٹی ہوئی ہوتی ہے اور ناک پر ٹکی ہوتی ہے ۔بے شک لفظ عربی ہے مگر ہم نے معنوی  تبدیلی کر کے اپنے استعمال میں  لے لیا ہے ۔ جسے ہم عینک کہتے ہیں اسے عرب نظارات  کہتے ہیں جس سے نظر آر پار ہوتی ہے ۔ اس کی دو اقسام ہیں، نظارات الشمسیہ ( Sun Glasses) دوسری قسم ہے ۔ نظارات الطبیہ ( Medical Glasses) پھر میڈیکل گلاس میں دو اقسام کی عینکیں ہیں ‘‘ للبعید’’ دور کے لئے اور ‘‘ للقریب ’’ نزدیک کے لئے ۔
کمزور نظر والا بہتر ہے کہ بغیر عینک کے گھوما پھرانہ کرے ۔ میرے ایک دوست نے عینک بننے کو دی تھی اور وہ بغیر عینک کے پھرتے تھے نتیجہ یہ کہ غلط گھر میں گھس گئے اتنی ٹھکائی ہوئی کہ تین دن تک فارسی بولتے رہے اور گھر میں پڑے رہے ۔
 ہمارے ماہر اطبا ء اور سرجن دنیا سے پیچھے نہیں ہیں ہر معاملے میں اپنوں  نے کا رہائے نمایاں  انجام دیئے ہیں ۔ ہر چند کہ انہیں یہ سہولتیں اور مراعات بھی میسر نہیں ہیں جو مغرب کے اطباء کو میسر ہیں مگر اپنے کام میں لگے ہیں ۔ دین نہیں صرف مذہب  کی چٹانیں  جب ان کے سامنے آتی ہیں تو یہ بے بس ہوجاتے ہیں اِن کے پاس کوئی علاج نہیں  ہوتا ۔ مثلاً انسانی اعضا ء کی پیوندکاری ۔ یہ ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے کہ ہر سال ہمارے ہاں لاتعداد میں ضائع ہو جاتی ہیں ۔ اس سلسلہ میں ایک تحریر مفتی محمد شفیع مرحوم کے رسالے میں پڑھی تھی عنوان تھا ( انسانی  اعضاء کی پیوند کاری شریعت اسلامیہ کی روشنی میں ) اس میں چند نامور علماء  اور مفتیان بھی شامل تھے کہ ہم انسانی اعضا ء کی پیوند کاری کو کسی  صورت میں  بھی جائز نہیں سمجھتے  ۔ حتیٰ کہ اضطراب حالت میں بھی ۔

No comments:

Post a Comment