Quran’s Inclusive Approach and
Narrow-Mindedness of Urdu Translators of Quran قرآن کا جامع نقطہ نظر
اور اس کے اردو مترجمین کی تنگ نظری
آفتاب احمد، نیو ایج اسلام
29 اپریل2014
عام
طور پر ایک مسلمان وہ ہوتا ہے جو دین اسلام سے تعلق رکھتا ہے اور اللہ اور
اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور قرآن اور
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرتا ہے۔
قرآن
میں بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کو مسلمان کہا گیا ہے
اور اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کو یہودی اور حضرت عیسی
علیہ السلام کے متبعین کو عیسائی کہا گیا ہے۔
تاہم،
قرآن مجید میں درجن سے زائد ایسی آیات ہیں جن میں ابراہیمی مذہب کے تمام
پیروکاروں کو مسلمان مانا گیا ہے اس لیے کہ وہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں
اور جھوٹے دیوتاوں اور دیویوں میں یقین نہیں کرتے تھے یا سورج، چاند،
پہاڑوں یا بارش کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے
کے نبیوں کے متبعین کو بھی مسلمان کہا جاتا تھا۔ لہذا، قرآنی آیات کے مطابق
تمام انبیاء مسلمان ہی تھے۔ قرآن کا اعلان ہے کہ خدا نے اپنے تمام ماننے
والوں کا نام مسلمان رکھا ہے۔
‘‘اور
اﷲ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ
اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین
میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین
ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی
اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ’’۔
(الحج:78)
قرآن
واضح طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ جو لوگ خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں
اور جھوٹے معبودوں کی پرستش نہیں کرتے وہ مسلمان ہیں اور ایسے لوگوں کو
صرف قرآن میں ہی نہیں بلکہ ہر دور میں مسلمان کہا گیا ہے، مثال کے طور پر
قرآن میں حضرت نوح علیہ السلام کو مسلم کہا گیا ہے:
No comments:
Post a Comment