Tuesday, March 4, 2014

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 18) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 18





خورشید احمد فارق
اقتصادی ترقی کے نئے وسائل
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت عراق، جِسال، خوزستان، فارس، میسوپوٹامیہ ، شام، مصر اور اَذربی جان پر عربی تسلط قائم ہوچکا تھا ۔ ان آٹھوں فارسی اور بزنطی صوبوں یا ان کےسرحدوں پر فاروقی فوجیں مقامی بغاوتوں کی روک تھام اور نئے علاقوں کی تسخیر کے لئے مامور تھیں ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلافت کی باگ ڈ ور سنبھالتے ہی پورے عزم کے ساتھ تسخیری کارروائی کی طرف متو جہ ہوگئے ۔ انہوں نے شام،مصر، بصرہ اور کوفہ کے گورنروں کو لکھا کہ نئی فتوحات کے لئے اپنے اپنے پڑوسی علاقوں میں فوجیں بھیجیں ۔ ہر طرف بڑے پیمانے پر عسکری سرگرمیاں شروع ہوگئیں ۔ عرب چھاؤنیوں کے سپاہی اور سرحدی رسالے حرکت میں آگئے، غیر مسخر علاقوں میں ترکتاز کابازار گرم ہوگیا ۔ مشرق میں ساسانی حکومت کے جنوبی صوبے فارس پر،اس سے متصل دوسرے صوبے کرمان پر، اس سےملحق تیسرے صوبے مُکر ان اور اس سے ملحق چوتھے سوبے سِجستان (موجودہ افغانستان) پر ادران سب کے شمال میں لمبے چوڑے اور زرخیز صوبے خراسان پر عرب فوجوں نے یورش کردی ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات پر اذربی جان میں بغاوت ہوگئی تھی اور وہاں کے رئیسوں نے معاہدہ کے چار لاکھ روپے 1؎۔ سالانہ دینار بند کر دیئے تھے ۔ عثمان رسالوں نے ان کی ایسی خبر لی کہ ان میں سالانہ رقم بحال کرنا پڑی۔ اَذرب


 

No comments:

Post a Comment