Friday, June 22, 2012

ارض فلسطین ، القدس اور ہم, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
ارض فلسطین ، القدس اور ہم

اب صورت حال یہ ہے کہ فلسطینیوں کی کئی نسلیں بے وطنی کے شدید تجربے اور انتفاضہ کے عمل سے گزر کر ایک ایسی منزل پر آپہنچی ہیں جہاں ماضی ، حال اور مستقبل تینوں تاریک نظر آتے ہیں

پروفیسر اختر الواسع

21 جون ، 2012

دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی میں ہٹلر کے بالا دستی حاصل کرنے کے بعد نازیت کا جو طوفان اٹھا اور جو لرزہ خیز انسانیت سوز مظالم کئے گئے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ انسانی تاریخ میں انسانوں پر انسانوں کے مظالم کی کسی بھی رودادمیں ان مظالم کا ذکر نمایاں ترین مظالم میں ہوگا جو نازیت کے زیر اثر روا رکھے گئے ۔ ان مظالم کے سامنے چنگیز او رہلاکو کے مظالم بھی معمولی معلوم ہوتے ہیں۔ ان مظالم میں جرمنی کے یہودیوں کو جس طرح اجتماعی وغارت گری کا شکار بنایا گیا اس نے انسانی تاریخ میں نسل کشی کا ایک ایسا سیاہ ترین باب رقم کیا جس کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔ جنگ کے بعد یورپ بلکہ پوری مغربی دنیا جس بھیانک تباہی وبربادی کی گرفت میں آئی اس میں یہودیوں کی اس نسل کشی پر احساس جرم بھی شامل تھا۔ یہودی اس وقت ایک بے یارو مدد گار او ربے کس قوم تھے اور ساری دنیا سے مدد اور سہارے کے طالب تھے۔ مغرب نے اپنے احساس جرم سے چھٹکارا پانے کے لئے اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا ڈول ڈالا جو بالآخر وجود میں آگئی ۔ لیکن یہاں بھی مغرب کی استعماری جبلت نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا ، کیوں کہ یہ ریاست ا س علاقے کے عرب باشندوں کوان کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کر کے وجود میں لائی گئی ۔ اس طرح ایک زمانے کی ایک بے سہارا ،بے بس اور مظلوم قوم بہت جلد ایک قومی ریاست کی شکل میں طاقتور ہوتے ہی دوسروں کو مظلوم بنانے والی ظلم کی طاقت میں تبدیل ہوگئی ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خود ظلم و جبر کا شکار رہ چکی یہودی قوم ایسے کسی فیصلے سے خود کو دستبردار کر لیتی لیکن اس کے برعکس ۔ قیام کے اول روز سے ہی اسرائیل حکومت تسلسل کے ساتھ ایسے اقدامات میں مصروف ہے جو فلسطینیوں کے مصائب اور مسائل میں اضافہ کرنے والے ہوں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں فلسطینیوں کو ان کی مظلومیت او رمحرومی کا احساس نہ دلایا جاتا ہو۔ ان کے پر امن مظاہروں پر گولیاں برسائی جاتی ہیں اور جب رد عمل میں نہتے فلسطینی پتھر اٹھاتے ہیں تو ان پر ٹینکوں سے گولے داغے جاتے ہیں۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/ارض-فلسطین-،-القدس-اور-ہم/d/7694

No comments:

Post a Comment