Friday, June 22, 2012

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

مولانا ندیم الواجدی

18 جون ، 2012

اسر اء او رمعراج یہ دو لفظ ایک حیرت انگیز واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہویں سال میں پیش آیا، قرآن کریم میں اس واقعے کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے:‘‘ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ) رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا’’ (بنی اسرائیل :1)

اس آیت میں ایک ایسا محیرالعقول واقعہ بیان کیا گیا ہے جو تاریخ انسانی میں نہ پہلے کبھی پیش آیا اور نہ آئندہ کبھی پیش آئے گا ، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معمولی واقفیت رکھنے والے لوگ بھی جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی سخت مصائب وآلام میں گزری ہے، کوئی ظلم ایسا نہ تھا جو مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہ پر نہ ڈھایا ہو، اخیر میں جب کوئی بس نہ چلا تو ان مشرکین نے بنو ہاشم اور بنو عبدا لمطلب کے خلاف آپس میں یہ معاہدہ کرلیا کہ ان قبیلوں سے اس وقت تک کسی قسم کا کوئی تعلق ،کوئی رابطہ ، کوئی معاملہ نہیں رکھا جائے جب تک کہ وہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے ہمارے حوالے نہیں کریں گے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ان دونوں قبیلوں کے تمام افراد ( ابولہب کے علاوہ کہ وہ مشرکین کے ساتھ تھا) شعب ابی طالب میں محصور ہوکر رہ گئے ،حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے ،اس معاہدے کے نتیجے میں سامان خورد ونوش کی آمد معطل ہوگئی ، لوگ پتے اور چمڑے کے ٹکڑے کھانے پر مجبور ہوگئے، بھوک سے بلبلاتے ہوئے بچوں اور عورتوں کی آوازیں گھاٹی سے باہر تک سنائی دیتی تھیں ، یہ معاملہ پورے تین سال تک چلا ،نبوت کے دسویں سال یہ معاہدہ جو خانہ کعبہ کی دیوار پر آویزاں تھا اللہ کے حکم کے مطابق کیڑوں کے ذریعے صاف کردیا گیا، قریش کے بعض دوسرے قبیلوں کے سرکردہ افراد نے بھی اس ظلم سے توبہ کرلی اور ان کے دل بھی محصور ین کے لیے نرم پڑگئے، اس طرح سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے ،دوست احباب جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہ اور عزیز اقارب شعب ابی طالب سے باہر آئے ،اس واقعہ کے چھ ماہ بعد آپ کے چچا ابو طالب وفات پاگئے ، جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کار ِدعوت میں بڑی تقویت حاصل تھی،اس حادثے کے چندروز بعد ام المؤ منین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہما وفات پا گئیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی غمگسار تھیں، ان مسلسل حوادث نے آپ کو نڈھال کردیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان حالات میں بھی دعوت دین کی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عروج-آدم-خاکی-سے-انجم-سہمے-جاتے-ہیں/d/7689


No comments:

Post a Comment