سونیکا رحمٰن، نیو ایج اسلام
جب کبھی بھی میں عورتوں کی ترقی، آزادی اور ان کے حق کے بارے میں سوچتی ہوں تو ایک خیال میرے ذہن میں آتا ہے کہ ایسی کون سی بات ہے جو ان کی اس ترقی میں رکاوٹ ہے شاید یہ کوئی فتوٰی تو نہیں کیونکہ جس طرح سے عورتوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کی نا تو ہم قرآن کی تعلیم کا صحیح استعمال کر رہے ہیں نا ہی اس میں لکھی باتوں پر عمل کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں پتہ ہونا چاہیئے کہ قرآن ایک ایسا ذریعہ ہے جس نے عورتوں کے احترام اور اس کی عزّت کا ذکر کیا ہے اور عورتوں کو مردوں کے برابر درجہ دیا ہے اور دنیا کو عورت کی عزت و احترام کا سبق اسلام نے دیا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار انسانیت کو عورتوں کی عظمت سے واقف کرایا۔ دنیا کو سبق دیا کہ لڑکے اور لڑکیوں کی پرورش میں تفریق نہ کریں، لڑکیوں کو تعلیم دینے کا حکم دیا۔ ماں کے قدمو کے نیچے جنت قرار دیا۔ اسلام عورت کو قدر اور عزت کی نگاہ سے دیکھنے کے لئے کہتا ہے۔ پھر کیوں بار بار ایک نیا فتوٰی جاری کر کے ہم ان کے عزت نفس کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور ان کی ترقی میں ركاوٹ بنتے ہیں؟
میں سمجھتی ہوں کہ شاید اسلام میں اتنی پابندیاں نہیں بتائی گئیں ہوں گی، جتنی آج کے مولوی فتوٰی کی شکل میں اسلام کا واسطہ دے کر تقریبا ہر دن جاری کر رہے ہے۔ کچھ مولوی کہتے ہیں کہ اسلام میں فتوٰی کا مطلب شرعی حکم ہے، جب کہ کچھ مذہبی رہنمائوں کا ماننا ہے یہ انسانی رائے ہے۔ یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ انسان کئی بار خود بھی غلط ہو سکتا ہے اور اس مہذب معاشرے میں کیا کسی کو مذہب کے نام پر اپنی رائے کے بوجھ میں دبایا جا سکتا ہے؟ دیکھا جا رہا ہے کہ مسلم سماج میں گزشتہ کئی برسوں سے ہر معاملے میں مذہب کی آڑ لینے کا دستور سا بن گیا ہے اور اس کے لئے بس ضرورت ہوتی ہے ایک موقع کی۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/فتوٰی-اور-عورت/d/7693
No comments:
Post a Comment