Friday, June 22, 2012

مہر کی اہمیت, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
مہر کی اہمیت

نیلو فر احمد

15 جون، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

اسلام میں شادی دو لوگوں کے درمیان ایک قانونی معاہدہ ہے نہ کہ ایک مقدس رسم ہے۔ عقد نکاح میں بہت ساری شرائط و ضوابط واجب ہیں، جبکہ شادی کے وقت دوسری اور شرائط بھی ہو سکتی ہیں جن پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔

شادی کے وقت شوہر کی طرف سے بیوی کو احترام کی ایک نشانی کے طور پر دیا گیا تحفہ واجب ہے اور جسے مہر کہا جاتا ہے۔ یہ بیوی کا قانونی حق ہے۔ یہ نقد یا جنس میں ہو سکتا ہے۔ رقم متغیر ہے اور دونوں فریقین کی طرف سے اس پر اتفاق کیا جانا چاہئے۔

اس مقصد کے لئے قرآن مجید میں استعمال الفاظ میں سے ایک صدقہ ہے (4:4)، جس کے معنی تحفہ کے ہے جو نیک نیتی میں اور ایک اچھے کام اور سخاوت کے طور پر دیا جاتا ہے نہ کہ اپنا درجہ بڑھانے کے لئے دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں دیگر استعمال ہونے والا لفظ اجر (33:50) ہے۔ اس لفظ کا معنی انعام کے ہیں اور یہ اجرت کو ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اس عورت کو بطور تحفہ دیا جاتا ہے جو اپنے خاندان اور اپنے گھر کی حفاظت کو چھوڑ کر نئے اور انجان ماحول میں ہم آہنگی کے لئے جا رہی ہو۔

مہر ادا کرنے سے کوئی بھی مستثنی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے، " اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہر آپ نے ادا فرما دیا ہے (33:50) "۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بی بی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ مانگنے آئے تو پہلی چیز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تھا، وہ یہ تھی کہ، "آپ کے پاس مہر کے طور پر دینے کے لئے کچھ ہے کیا؟" انہوں نے کہا کہ ان کا پاس ایک گھوڑا اور ایک کاٹھی ہے۔ انہوں نے 480 درہم میں کاٹھی کو بیچ دیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ اس مال سے دلہن اور نئے گھر کی فوری ضروریات کو پورا کیا گیا۔ اس طرح جہیز کا تصور یا گھریلو سامان اور تحفوں کی لامتناہی مقدار کا اسلام میں کوئی وجود نہیں ہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/مہر-کی-اہمیت/d/7656


No comments:

Post a Comment