Showing posts with label ماحول. Show all posts
Showing posts with label ماحول. Show all posts

Thursday, June 28, 2012

مسئلہ کشمیر جذبات کا نہیں فراست کا متقاضی, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
مسئلہ کشمیر جذبات کا نہیں فراست کا متقاضی

شیخ منظور احمد ،نئی دہلی

کشمیر میں بعد از خرابی بسیار امن ، ترقی اور خوش حالی کے ایک نئے دور کا آغاز متوقع ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے حالیہ دورہ کشمیر نے اس شورش زدہ ریاست کے عوام ایک نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا کیا ہے ، جس سے سیاسی اور اقتصادی محاذہر مثبت استفادہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ماضی میں اکثر ایسے ہی موقعو ں کو ضائع کرنے سے ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی آئی ہے جو امکانات سے زیادہ اندیشوں کی تجارت پر یقین رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم نے حالیہ دورے میں ایک طرف جہاں علاحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کے دروازے پھر سے کھول دیئے ہیں، وہیں دوسری جانب پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ہمسایہ ملک کے ساتھ بھی تعلقات کا ایک نیا باب کھولنے کا واضح اشارہ کیا ہے۔

ایسا نہیں کہ حکومت ہند کی طرف سےاپنی نوعیت کی یہ پہلی کوشش ہے۔ ماضی میں بھی حالات کا رخ بہتری کی طرف موڑنے کے لئے ایک سے زائد اقدامات کئے جاچکے ہیں ،لیکن وہ اپنے منطقی انجام تک اس لئے نہیں پہنچ سکے کہ داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر فالو اپ کی کارروائیاں موثر طور پر انجام دینے میں کسی نہ کسی سبب سے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔

اب جبکہ قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر سیاسی ، اقتصادی اور سفارتی انداز فکر کو مربوط انداز میں عمل میں لانے اور دنیا کے سبھی متاثرہ خطوں کے مسائل کوکسی بڑے الٹ پھیر کے بغیر علاقائی یک جہتی کے ساتھ مقامی امنگوں کوملحوظ خاطر رکھ کر پالیسیاں مرتب کرنے کو تمام تر محد ود عزائم پر ترجیح دیا جانے لگی ہے، کشمیر کے محاذ پر بھی امید کی ایک شمع روشن ہوئی ہے ، جس کی روشنی کو مدھم ہونے سے بچانے کی ذمہ داری ان سب پر عائد ہوتی ہے ، جو اس مسئلے سے کسی نہ کسی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

ریاست جموں وکشمیر میں زائد از دودہائیوں سے چلی آرہی شورش نے اس جنت نشان خطے کے بنیادی و ساختیاتی ڈھانچے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ نتیجے میں وادی میں سیاسی بدامنی کا ماحول وسیع تر ہوتا گیا۔ حالات کے منفی رخ اختیار کرنے کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے لئے کسی کو تنہا مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور ایسی الزام تراشیوں سے حالات بدلے بھی نہیں جاسکتے ۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بہتری کی کوششوں میں بعض اوقات لاشعوری نقص بھی امکانات کوموہوم کردیتے ہیں ۔ ایسے نقائص سے بچنے کے لئے جس سیاسی تدبر کی ضرورت ہے اس کا فقدان ہرگز نہیں اور فریقین اگر معاملے سے جذبات کی جگہ فراست کے ساتھ نمٹیں تو عجب نہیں کہ اتفاق رائے کا ایک ایسا ساز گار ماحول پیداہوجائے جو سب کو راس آجائے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/مسئلہ-کشمیر-جذبات-کا-نہیں-فراست-کا-متقاضی/d/2068


Friday, June 22, 2012

مہر کی اہمیت, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
مہر کی اہمیت

نیلو فر احمد

15 جون، 2012

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

اسلام میں شادی دو لوگوں کے درمیان ایک قانونی معاہدہ ہے نہ کہ ایک مقدس رسم ہے۔ عقد نکاح میں بہت ساری شرائط و ضوابط واجب ہیں، جبکہ شادی کے وقت دوسری اور شرائط بھی ہو سکتی ہیں جن پر اتفاق کیا جا سکتا ہے۔

شادی کے وقت شوہر کی طرف سے بیوی کو احترام کی ایک نشانی کے طور پر دیا گیا تحفہ واجب ہے اور جسے مہر کہا جاتا ہے۔ یہ بیوی کا قانونی حق ہے۔ یہ نقد یا جنس میں ہو سکتا ہے۔ رقم متغیر ہے اور دونوں فریقین کی طرف سے اس پر اتفاق کیا جانا چاہئے۔

اس مقصد کے لئے قرآن مجید میں استعمال الفاظ میں سے ایک صدقہ ہے (4:4)، جس کے معنی تحفہ کے ہے جو نیک نیتی میں اور ایک اچھے کام اور سخاوت کے طور پر دیا جاتا ہے نہ کہ اپنا درجہ بڑھانے کے لئے دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں دیگر استعمال ہونے والا لفظ اجر (33:50) ہے۔ اس لفظ کا معنی انعام کے ہیں اور یہ اجرت کو ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اس عورت کو بطور تحفہ دیا جاتا ہے جو اپنے خاندان اور اپنے گھر کی حفاظت کو چھوڑ کر نئے اور انجان ماحول میں ہم آہنگی کے لئے جا رہی ہو۔

مہر ادا کرنے سے کوئی بھی مستثنی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے، " اے نبی! بیشک ہم نے آپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں حلال فرما دی ہیں جن کا مہر آپ نے ادا فرما دیا ہے (33:50) "۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بی بی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ مانگنے آئے تو پہلی چیز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تھا، وہ یہ تھی کہ، "آپ کے پاس مہر کے طور پر دینے کے لئے کچھ ہے کیا؟" انہوں نے کہا کہ ان کا پاس ایک گھوڑا اور ایک کاٹھی ہے۔ انہوں نے 480 درہم میں کاٹھی کو بیچ دیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ اس مال سے دلہن اور نئے گھر کی فوری ضروریات کو پورا کیا گیا۔ اس طرح جہیز کا تصور یا گھریلو سامان اور تحفوں کی لامتناہی مقدار کا اسلام میں کوئی وجود نہیں ہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/مہر-کی-اہمیت/d/7656