Showing posts with label عورتوں. Show all posts
Showing posts with label عورتوں. Show all posts

Monday, July 2, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: آخری قسط, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: آخری قسط

بیوی کو لازم ہے کہ اگر کوئی کام جو خود اس کے اپنے کرنے کاہے اپنے شوہر کو کرتا دیکھے خواہ اس نے اس کےلئے بیوی کو کہا ہو یا نہ تو اس سے نہایت معذرت کے ساتھ لے لے اورکہے کہ جب میں موجود ہوں تو آپ خود کیوں تکلیف کرتے ہیں۔ اگر شوہر اس سے پہلے اس کے کرنے کےلئے کہہ چکا ہے تو عذر کر نا چاہئے کہ میں بھول گئی تھی یا مجھے خیال نہ رہا تھا ورنہ میں کیو ں اس کام کو نہ کرتی۔ لیکن اگر بیوی اس ذرا سے معاملہ پر سکوت کرے گی یا شوہر کے اس طرح کام کرنے کو اس کا شوقیہ کام سمجھ لے گی تو یہ اس کی سخت غلطی ہوگی اور شوہر کے دل میں کدورت اور رنج بٹھا نے کا باعث ہوگی۔

شوہر وزوجہ کے درمیان رنجش کی وجہ زوجہ کے تعلیم یافتہ ہونے کی حالت میں کبھی یہ ہوتی ہے کہ زو جہ کسی خفیہ پتہ پر اپنے عزیزوں سے خط وکتابت رکھتی ہے، جس سے شوہر کو طرح طرح کے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ شوہر وزوجہ رشتہ اتحاد اور آپس کے پورے اعتماد کا ہے ۔ اس حالت میں زوجہ کو کوئی خط وکتابت بلا اجازت وعلم شوہر نہیں کرنی چاہئے اور سب سے بہتر انتظام یہ ہے کہ زوجہ ہمیشہ اپنے خطوط کھلے لفافہ میں شوہر کے حوالہ کرے۔ لیکن اگر بدقسمتی سے آپس میں اس قدر اتحاد و اعتماد نہ ہو تب شوہر کو بھی ہر گز زوجہ کے خطوط کو دیکھنے کے درپے نہیں ہوناچاہئے ۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ اس کی زوجہ کسی اور خفیہ پتہ پر خط وکتابت کرے گی جو زیادہ بدنامی کا موجب ہے۔ پس شوہر کو چاہئے کہ ایسے حالات میں اپنے طریق عمل سے یقین دلانا چاہئے کہ وہ اس کے خطوط کے دیکھنے کے درپے دلانا چاہئے کہ وہ اس کے خطوط کے دیکھنے کے درپے نہیں ہے اور بیوی کی اس بے اعتماد ی پرصبر کرے۔

سب سے اخیر نصیحت یہ ہے کہ ان فرائض میں سے اگر کچھ کوتاہی ہوجائے مثلاً ترک ادب، یا ترک اطاعت ، یا کوئی امر خلاف محبت تو بیوی کو لازم ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو اپنے شوہر سے اس فرد گذاشت کی بابت معذرت طلب کرے۔ اگر کوئی کلمہ ارادتاً سہوایاً غصہ میں منہ سے خلاف شان شوہر نکلا ہو اور شوہر باوجود اس کے خوش نظر آتاہو تو اس کی خوشی پر پھولنا نہیں چاہئے اور یادرکھنا چاہئے کہ اس کلمہ کی نسبت جب تک تم معذرت نہ کروگی شوہر کے دل میں ضرور کھٹکتا رہے گا۔ معذرت کےطلب کرنے میں کبھی شرم نہیں کرنی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ شرم ایسی مضر نہیں ہے جیسا شوہر کے دل میں کسی رنجش کاجاگزیں رہنا ،بعض عورتیں جو بہت ہوشیار ہوتی ہیں اور طریق معذرت کا اختیار کرتی ہیں۔ کبھی تو وہ یہ کرتی ہیں کہ شوہر کو غصہ میں جو چاہیں کہہ لیتی ہیں۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--آخری-قسط/d/2318



عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 51, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 51
بیبیوں کو خیال کرنا چاہئے کہ ان کا شوہر کس محنت اور تکلیف سے روپیہ کماتا ہے ۔ جس تکلیف سے وہ اس روپیہ کو پیدا کرتاہے اسی دردمندی کے ساتھ اس کو خرچ کرناچاہئے ۔ بجا اور بے جا خرچ کی شناخت کے لئے یہ اصول مقرر کرنا چاہئے کہ جب کوئی چیز بنوانی یا خرید کرنے کا ارادہ ہوتو اس وقت یہ دیکھا جائے کہ اگر یہ چیز گھر میں نہ ہوتو کچھ حرج یا قباحت ہے کہ نہیں۔ اگر کوئی ہرج یا قباحت نہ ہوتو جانو کہ یہ چیز فضول ہے اور روپیہ کو ایسے فضول طور پر ضائع کرنے سے بچانا چاہئے ۔ اس زمانہ میں آرام طلبی اور عیش پسندی کے سامان زیادہ ہوتے جاتے ہیں جن کی حقیقت میں کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ پس ان کے طلب میں ہرگز نہیں پڑنا چاہئے ۔ بیوی کو کفایت شعاری کے لحاظ سے ہر چیز کا حساب رکھنا چاہئے اور خصوصاً خاص اپنے اخراجات کا اور شوہر کے اخراجات کا تاکہ اس کو ہمیشہ یہ بات یادر ہے کہ خاص میر ی ذات کے لئے کس قدر خرچ کی ضرورت ہے اور اس میں بغیر اشد ضرورت کے اور زیادتی نہ ہو اور یہ بھی خیال رہے کہ عمدہ سے عمدہ انتظام کرلینا آسان ہے لیکن کمانا بہت مشکل ہے ۔ پس انتظام کرنے والے کے اخراجات کمانے والے کے اخراجات سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں ۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس طرح اپنی حیثیت سے اترکر گھٹیاطریق زندگی اختیار کرنا خشت اور کنجوسی کہلاتا ہے اسی طرح اپنی حیثیت سے بڑھ کر بڑے آدمیوں کی ریس کرنا اور ان کا سا لباس اور طریقت معاشرت اختیار کرنا اوچھا پن کہلاتا ہے اور ایسا کرنے والوں پر لوگ کو سامنے کچھ نہ کہیں لیکن پیٹھ پیچھے ضرور ہنستے ہیں۔ ہماری قوم کے شرفا کے دستور کے موافق متوسط اور اعلیٰ درجہ کے لوگوں کا اور ان کے مستورات کا باہم ملنا ملانا ایک عام بات ہے ۔ دس روپیہ کا محررڈپٹی کلکٹر سےملتا ہے اور اسی طرح ان کی بیویاں بھی باہم ملتی جلتی ہیں ۔ اب اگر ایک ادنیٰ محرر کی بیوی ایسے عمدہ داروں کی بیویوں کی ریس کرنے لگے تو قطع اس کے کہ وہ اپنے شوہر کے لئے بلائے جان بننا چاہتی ہے وہ اپنی جگ ہنسائی کرواتی ہے۔

عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 30, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 30
درحقیقت نکاح کا یہ اصول کی روٹی ٹکڑے کا آرام ہو جائے ایک فرع ہے اس عام غلط اصول کی کہ عورت مر د کے آرام کے لئے ہے۔ اسی وجہ سے باپ بیٹوں کو خدمت گار سمجھتا ہے۔ بھائی بہنوں کو خدمت گار جانتا ہے اورمیاں بیوی کو باندی بنا کر رکھتا ہے اور اس اصول کی بنیاد ہے خود غرضی اور طمع کیونکہ بحالت مساوات حقوق زن و مرد اخراجات خانگی المضاعف ہوجاتے ہیں ۔ کبھی کبھی یہ اصول اپنی اصلی صورت میں نمایاں ہوتا ہے جب کہ بعض لوگ ایسے امری شخص کی بیٹی سے شادی کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں جو اولا د نرینہ نہ رکھتا ہو کہ بیوی کی بدولت مال کے وارث بنیں ۔ پس جب جوروں کی کمائی کھانا نکاح کا اصول ٹھہرا تو ایسے اصول پر چلنے والوں کو کیا ضرورت ہے کہ بیوی کے پسند اور منتخب کرنے کی زحمت اٹھائیں نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ ناموافقت مزاج ہونے کی وجہ سے جو اس قسم کے نکاحوں کو با الطبع لازم غیر منفک ہے تمام عمر عذاب میں گزرتی ہے اور اصلی نکاح سے جس قدر برکتیں اور راحتیں پیدا ہوتی ہیں اتنی ہی ان نکاحوں سے رنجشیں اور خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ اور آخر کار بجز اس کے کوئی چارہ نہیں پاتے کہ اس شادی کو جو ماں باپ نے کرائی تھی کا لعدم سمجھ کر کسی اور عورت کو جو خوش صورت وخوش سیرۃ ہو رفیق بنائیں ۔مگر قوم کی حالت وستور اجازت نہیں دیتا کہ اپنا اختیار وپسندیدیگی پورے طور پر کام میں آسکے۔ ہر چند رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود ہے کہ نکاح کرنے سے پہلے دیکھ لو مباد ا ن میں کوئی عیب یا ایسا امر ہو جو بعد نکاح موجب ناموافقت ہو مگر کون خدا اور کس کا رسول ۔یہاں فرضی ناموس اکبر سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ لاچار شرفا کے بچے بجز کسبیوں کے اور کسی کو نہیں پاتے جو اس حکم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کااستعمال اپنے پر ہونے دیں ۔لاچار ہو کسبیو ں کو گھر میں ڈالتے اور شریف خاندانوں کو بدنام کرتے اور اپنے بڑوں کی عزت کو جو ضروری ڈوبنی چاہئے تھی ڈبو تے ہیں۔

عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 29,

Urdu Section
عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 29

نسبت امر دل ہم اہل اسلام ہندوستان کی حالت نہایت قابل افسوس پاتے ہیں ۔صرف یہ ہی نہیں کہ انہوں نے کوئی عام حد عمر نکاح مقرر نہیں کی یا بہت صغر سنی میں نکاح کیا جاتا ہے بلکہ دودھ پیتے بچوں او رکبھی کبھی بن پیدا ہوئے بچوں کا جو ابھی پیٹ سے جنیں ہوتے ہیں رشتہ ہوجاتا ہے جو نکاح سےبھی زیادہ موکد اور ناقابل اکتنسیخ ہوتا ہے۔ اس قسم کے ازدواج سے صرف یہ ہی نقصان نہیں ہوتا کہ فریقین ازدواج اس خود معاشرتی سے جو خوشی کے انتخاب و پسندیدگی کا نتیجہ ہے محروم رہ کرنا موافقت باہمی کدورت کی تلخی تام عمر چکھتے ہیں بلکہ اس زبردستی کے رشتہ کے ہوجانے کے بعد نکاح بھی ایسی صغرسنی میں ہوجاتا ہے کہ اس وقت تک لڑکے اور لڑکی کے اعضا کا نشوونما اس رشتہ کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لئے جو بچے بچپن میں ہی شوہر و زوجہ او رچند روز بعد باپ اور ماں بن جاتے ہیں ان کی صحت کو ایسے سخت صدمے اٹھانے پڑتے ہیں کہ پھر کسی قسم کی تدبیر یا علاج سے تمام عمر اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ۔

جن شرائط پر دوسرے مقصد کا حصول ہے وہ بھی نکاح مروجہ میں کلی طور پر مفقود ہوتی ہیں اول تو شوہر کو زوجہ کے پسند کرنے کا اختیار ہی نہیں ہو تا اور اگر ہوتا بھی ہے تو دس بارہ برس کا بچہ کیا جان سکتا ہے کہ میں کس قسم کا اور کتنی مدت کےلئے معاہدہ کرتاہوں اور اس کا کیا اثر میری کل زندگی پر ہوگا لیکن اس قدر صغر سنی میں نکاح ہونا ایسا صریحا مذموم امر ہے کہ اس کی مذمت سے عموماً لوگ واقف ہوگئے ہیں اس لئے اس امر پر زیادہ زور دینا ضروری ہے ۔ لیکن جو نکاح عموماً زمانہ بلوغت یا اس سے بھی بعد عمل میں آتے ہیں ان کے پسندیدہ ہونے میں شاید بہت کم لوگوں کو کلام ہوگا ۔مگر ہم ان نکاحوں کو بھی سخت قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تجربہ ہے کہ کسی صورت میں لڑکی کو تو اپنے لئے شوہر کے پسند کرنے یا اس بات میں کچھ ضعیف سی بھی رائے دینے کا اختیار ہوتا ہی نہیں الا سمجھنا بھی کہ لڑکوں کو ایسا اختیار حاصل ہوتا ہے صریح غلطی ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ بزرگوں کا بزرگانہ دباؤ اور عزیز واقربا کا زبردست لحاظ اور دوستوں کی پاس خاطران سب امور کا مجتمع قوی اثر بیچارہ لڑکے پر ڈال کر اس سے شرما شرمی کسی نہ کسی طرح اظہار پسندیدگی کر والیتے ہیں ۔مگر آیا یہ ان کی دلی اور حقیقی پسندید گی ہوتی ہے ان کی متاہلا نہ زندگی کے طریق عمل سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ا-ن-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت---قسط-29/d/2188


عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 28, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 28

حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

6۔ کرتوں او رصدریوں کے گریباں بند ہونے چاہئیں اور ان کے ایسے گلو بند ہوں جن سے گردن چھپی رہے ۔

7۔ کمر بند کا لٹکتا نظر آنا سخت بے تمیزی او ربے حیائی ہے۔

8۔ کمر بند میں کنجیوں کا گھچایا بٹوا ہونا اور کنجیوں اور بٹوے کی ہر ضرورت پرکمر بند کی طرف ہاتھ لے جانا سخت گنوار پن ہے۔

9۔ بجائے پھڈی اور گھیتلی جوتی کے جن کا دیہات وقصباب میں عام رواج ہے سلیم شاہی جوتی یا انگریزی گر گابی مع موزہ پہننا زیادہ آرام کی بات ہے۔

10۔ جو صاحب ہماری رائے سے اتفاق رکھتے ہوں جس شہر میں جتنے ہوں وہ اپنی ایک خاص جمعیت بغرض اصلاح حالت مستو رات اہل اسلام ہند بنائیں ۔ اور ان کی مجالس میں ان کے ہمراہ ان کی بیوبیاں بھی شامل ہوا کریں جو حسب مرضی ان صاحبان کے لباس شرعی میں ملبوس ہوں یا کسی اسے لباس میں جووہ اس موقع کےلئے قرار دیں ۔ یہ فی الحال سب سے اعلیٰ درجہ کی اصلاح متصور ہوگی۔

Sunday, July 1, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 26, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 26

پس جب ان غریبوں ادنیٰ گھروں کی عورتیں باوجود بے علمی او ربے استطاعتی کے اپنی عصمت کو اس طرح بچاسکتی ہیں تو کیا یہ شریف زادیوں ہی کےلئے خاص بات ہے کہ وہ باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اور نیز اس امر کے کہ ان کےلئے ترغیبات اس قدر موثر نہیں ہوسکتیں جس قدر غربا کی مستورات کے لئے اور نیز باوجود اس امر کے کہ شرفا کی عورتوں کو جن کو نوکر چاکر رکھنے کا مقدور ہےبازاروں میں پھرنے کی ضرورت نہ ہوئی تاہم وہ نسق میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہیں گی۔ ہم اپنی قوم کے معزز گھرانوں کی بیگمات کے اطوار واوضاع کی نسبت نہایت اعلیٰ رائے رکھتے ہیں جو ہم کو ایسے ناپاک خطروں سےمانع ہے۔

علاوہ ازیں یہ خطرہ فسق بعض حالات میں تو محض بیہودہ وخیالی ہوتا ہے ۔ مثلاً سفر ریل میں ہم نے اثنا سفر میں بعض بدظن وہیموں کو دیکھا ہے کہ ان مقاموں پر جو ریل کے جنکشن کہلاتے ہیں یعنی جہاں ریل کی ایک گاڑی میں اسے اتر کر دوسری میں سوار ہونا پڑتا ہے چند مستورات کو ایک قطار میں کھڑا کرکے اور ان کے دونوں طرف متوازی چادریں پکڑ کر ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک اسی حراست میں لےجاتے ہیں اور تمام یورپین زن و مردان کی حماقت پر ہنستے اور ٹھٹھہ کرتے ہیں۔

بعض وہمی نہ صرف اسٹیشن پر ان اوبام پر عمل کرتے ہیں بلکہ چلتی ریل میں کھڑکیاں کھولنا اور متورات کوباہر جنگل کی طرف دیکھنے دینا بھی معیوب اور مکروہ سمجھتے ہیں ۔ اب ہمیں حامیان پردہ خلاف شرع بتلائیں کہ جنگل کے کسی کھیت میں کھڑے ہوئے مرد کو آنا فاناً دیکھ لینا کس فسق کی طرف منجر ہوسکتا ہے ۔ علی ہذا القیاس ریل کے اسٹیشن پر جہاں ملکوں ملکوں کے مسافر دور دراز مقامات کے ٹکٹ لئے ہوئے اپنی گھبراہٹ میں ہوتے ہیں کیا یہ خطرہ کیا جاسکتا ہے کہ ان میں کا کوئی مسافر کسی عورت کو دیکھ کر اس کی بود وباش کا حال پوچھنے کے درپے ہوگا اور اسی وقت ان امورکو آسانی سے معلوم کر کے اپنا سفر ملتوی کر تمہارے ساتھ ہو لے گا اور جہاں تم جاؤگے وہاں وہ بھی آکر رہے گا ان باتوں کو کوئی شخص جس کو ذرا سی بھی عقل ہوگی تسلیم نہ کرے گا۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-26/d/2173


دو سو چوراسی برس سے نافذ فرمان, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
دو سو چوراسی برس سے نافذ فرمان

اکتوبر 2009کا دوسرا ہفتہ ختم ہونے کو آیا اور نوبل انعامات کا اعلان ہوچکا ۔مجھے خوشی اس بات کی ہےکہ دنیا کا یہ سب سے بڑا اعزاز اس مرتبہ چار عورتوں کے حصے میں سے ادب کا انعام ہرٹاملر کو ملا جبکہ کیمیا کے انعام میں ایک اسرائیلی خاتون حصہ دار بنی۔ اور طبیعات کے انعام میں ایک مرد اور دوسائنسداں عورتیں شریک رہیں۔اس طرح 2009میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک برس کے اندر یہ اعزاز 4عورتوں کو ملا ۔نوبل انعام پانے والوں کی فہرست پر نظر ڈالیے تو اب بھی عورتوں کی تعداد بہت کم یعنی 36ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ علم وتحقیق کے شعبوں میں عورتوں کی راہ میں امتیازی سلوک کی رکاوٹیں رہی ہیں جس نے انہیں مسابقت کا ہموار میدان فراہم نہیں کیا ۔ ا سکے باوجود وہ آگے بڑھی ہیں اور ان کی پرواز کا افق وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے۔ دنیا کے دوسرے انعامات یا نوبل انعام کی فہرست میں عورتوں کا نام پڑھتے ہوئے مجھے دلی مسرت ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال ذہن میں سراٹھاتا ہے کہ ڈیڑھ ارب کی آبادی والی مسلم امہ میں سے کسی عورت کی حصے میں ادب یا سائنس کا کوئی انعام کیوں نہیں آیا؟یہ ممکن بھی کیسے تھا کہ آج اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں سوڈان کی ایک خاتون کوصرف اس خطا میں ذرے مارے جاتے ہوں کہ اس نے ‘‘جینز’’ جیسا غیر اسلامی لباس پہنا تھا اور سعودی عرب میں پہلے مخلوط تعلیمی ادارے کے قیام سے دین کے محافظوں کی نیندیں اڑجاتی ہوں۔ آج ہم امریکہ ، برطانیہ ، اسرائیل ،یورپ اور دنیا کے دوسرے غیر مسلم ممالک کی عورتوں کو تیز ی سے آگے بڑھتا دیکھتے ہیں تو اس کا سبب یہ نہیں کہ مسلمان عورتوں سے کہیں زیادہ ذہین ہیں۔ اصل مسئلہ مساوی مواقع کے فراہم ہونے کا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں عورتوں نے آج سے نہیں پانچ صدیوں سے تعلیم اور اپنے دوسرے سماجی اور سیاسی حقو ق کے لیے ایک لمبی لڑائی لڑی ہے۔انہوں نے کبھی بھی کسی طرح کی مراعات کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کا کہناہمیشہ یہی رہا ہے کہ ہم مساوی مواقع کے طلب گار ہیں کیونکہ اگر زندگی کی دوڑ میں اترتے ہوئے ہمارے پیر بندھے ہوئے ہوں اور پھر ہمیں دوڑ نہ جیتنے کے طعنے دیے جائیں ،یہ کہا جائے کہ ہم نالائق اور نااہل ہیں ، ناقص العقل اور کم تردرجے کی مخلوق ہیں تو ہمارے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔میرے سامنے شیریں عبادی کا نام ابھر تا ہے ایک ایرانی قانون داں خاتون جنہیں 2003میں امن کا انعام دیا گیا تو ایران کے حکمران اور کٹر مذہبی حلقوں میں کہرام برپا ہوگیا۔ شیریں ایران کی پہلی جج خاتون کہ عہدے پر فائز ہوئیں لیکن 1979میں انقلاب ایران کے فوراً بعد شیریں سمیت تمام جج خواتین اپنے عہدوں سے فارغ کردی گئیں اور جس عدالت میں انہوں نے جج کے طور پر کام کیا تھا وہیں ان سے کلرک کے طور پر کام لیا گیا۔ تمام جج خواتین نے جب اس ناانصافی پر احتجاج کیا تو انہیں ‘‘ماہرین قانون’’ کالقت دیا گیا۔ کئی برس کی جدوجہد کے بعد 1992میں شیریں کو اس بات کی اجازت ملی کہ وہ وکیل کے طور پر ایرانی عدالتوں میں پیش ہوسکیں اور ان لوگوں کا مقدمہ لڑسکیں جو اپنے سیاسی خیالات، ترقی پسند ادیب، سرکار مخالف صحافی یا مذہبی اقلیت ہونے کی وجہ سے ریاستی جبر کا شکار ہیں۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/دو-سو-چوراسی-برس-سے-نافذ-فرمان/d/2304