Showing posts with label شخص. Show all posts
Showing posts with label شخص. Show all posts

Sunday, July 1, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 26, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 26

پس جب ان غریبوں ادنیٰ گھروں کی عورتیں باوجود بے علمی او ربے استطاعتی کے اپنی عصمت کو اس طرح بچاسکتی ہیں تو کیا یہ شریف زادیوں ہی کےلئے خاص بات ہے کہ وہ باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے اور نیز اس امر کے کہ ان کےلئے ترغیبات اس قدر موثر نہیں ہوسکتیں جس قدر غربا کی مستورات کے لئے اور نیز باوجود اس امر کے کہ شرفا کی عورتوں کو جن کو نوکر چاکر رکھنے کا مقدور ہےبازاروں میں پھرنے کی ضرورت نہ ہوئی تاہم وہ نسق میں مبتلا ہوئے بغیر نہ رہیں گی۔ ہم اپنی قوم کے معزز گھرانوں کی بیگمات کے اطوار واوضاع کی نسبت نہایت اعلیٰ رائے رکھتے ہیں جو ہم کو ایسے ناپاک خطروں سےمانع ہے۔

علاوہ ازیں یہ خطرہ فسق بعض حالات میں تو محض بیہودہ وخیالی ہوتا ہے ۔ مثلاً سفر ریل میں ہم نے اثنا سفر میں بعض بدظن وہیموں کو دیکھا ہے کہ ان مقاموں پر جو ریل کے جنکشن کہلاتے ہیں یعنی جہاں ریل کی ایک گاڑی میں اسے اتر کر دوسری میں سوار ہونا پڑتا ہے چند مستورات کو ایک قطار میں کھڑا کرکے اور ان کے دونوں طرف متوازی چادریں پکڑ کر ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک اسی حراست میں لےجاتے ہیں اور تمام یورپین زن و مردان کی حماقت پر ہنستے اور ٹھٹھہ کرتے ہیں۔

بعض وہمی نہ صرف اسٹیشن پر ان اوبام پر عمل کرتے ہیں بلکہ چلتی ریل میں کھڑکیاں کھولنا اور متورات کوباہر جنگل کی طرف دیکھنے دینا بھی معیوب اور مکروہ سمجھتے ہیں ۔ اب ہمیں حامیان پردہ خلاف شرع بتلائیں کہ جنگل کے کسی کھیت میں کھڑے ہوئے مرد کو آنا فاناً دیکھ لینا کس فسق کی طرف منجر ہوسکتا ہے ۔ علی ہذا القیاس ریل کے اسٹیشن پر جہاں ملکوں ملکوں کے مسافر دور دراز مقامات کے ٹکٹ لئے ہوئے اپنی گھبراہٹ میں ہوتے ہیں کیا یہ خطرہ کیا جاسکتا ہے کہ ان میں کا کوئی مسافر کسی عورت کو دیکھ کر اس کی بود وباش کا حال پوچھنے کے درپے ہوگا اور اسی وقت ان امورکو آسانی سے معلوم کر کے اپنا سفر ملتوی کر تمہارے ساتھ ہو لے گا اور جہاں تم جاؤگے وہاں وہ بھی آکر رہے گا ان باتوں کو کوئی شخص جس کو ذرا سی بھی عقل ہوگی تسلیم نہ کرے گا۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-26/d/2173


Wednesday, June 27, 2012

حضرت علیؑ کا طرز جہاں بانی, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
حضرت علیؑ کا طرز جہاں بانی

علی ظہیر نقوی

21رمضان تاریخ اسلام میں انسانیت کے اس عظیم انسان کا روز شہادت ہے جسے اس کی حق پسندی وعدالت کے سبب 40ہجری میں محراب مسجد کوفہ میں دوران نماز فجر زمانہ کی دہشت گرد باطل پرست طاقتوں کے ذریعہ شہید کردیا جاتا ہے ۔ مسجد کوفہ میں شہادت سے ہم آغوش ہونے والے انسانی تاریخ کے اس انسان کا مل کو زمانہ علی مرتضیٰ شیرخدا کے نام سے جانتا ہے۔ راہ خدا میں شہادت جیسی عظیم نعمت عاشقان راہِ خدا کی معراج ہوا کرتی ہے یہی سبب ہے ضربت شہادت سے دوچار ہونے کے بعد تاریخ اسلام وانسانیت کے محسن علی ابن ابی طالب کے منہ سے جو تاریخی جملہ نکلا تھا وہ یہی تھا’’رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا ‘‘۔

وصی رسوال ؐ امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی مثال زندگی نصرت حق وعدالت کا ایسا نمونہ ہے جس کی نظیر پیش کرنے سے زمانہ قاصر ہے۔ عصر حاضرکی حکومتیں حقوق بشریت کے تحفظ اور غربت وافلاس کے دور کرنے کے بڑے بڑے دعوے اور نعرے تو بلند کرتی ہیں لیکن عملی طور پر حکومتوں کے ذمہ داران اس پر خود عامل نہیں ہوتے۔ حضرت علیہ السلام تاریخ اسلام کے وہ عظیم حاکم ہیں جو خود اپنی زندگی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عملی اقدامات کے ذریعے زمانہ کو بتایا کہ اسلامی ریاست کے سربراہ کی زندگی اپنی رعایا کے کسی غریب ترین شخص کے مقابل کسی ہونی چاہئے۔

بقول ابن جوزی ’’حاکم ہوتے ہوئے بھی آپ اپنے اونٹوں کی مالش خود کرتے، گھر کے کام خود انجام دیتے ، جو کی سوکھی روٹی پر قناعت کرتے اور اسے بھی تھیلے میں سربہ مہر رکھتے تھے تاکہ ان کے بچے رحم کھا کر روٹی پر روغن نہ لگادیں‘‘۔آپ نے عثمان ابن حنیف کو ا یک خط میں اس کے کسی امیر شخص کی دعوت قبول کرنے پر سرزنش کرتے ہوئے لکھا ’’تیرے امام نے اس دنیا میں دو روٹیوں ایک بوسیدہ قمیض پر اکتفا کیا ہوا ہے مگر میں جانتا ہوں تو ایسا نہیں کرسکتا مگر تقویٰ می ں میری مدد کر‘‘آپ نے اپنی زندگی کو اپنی ملکت کے غریب ترین شخص کی سطح پر رکھا ہوا تھا تاکہ کسی غریب و محروم شخص میں احساس محرومی پیدا نہ ہو۔ وہ دیکھ رہا ہے۔ کیا تاریخ ایسے حکمران کی کوئی مثال پیش کرسکتی ہے؟ حضرت علی ؑ اسلامی تاریخ کے ایسے حکمراں ہیں جن کے نزدیک ایسی حکمرانی جو حق عدل کا نظام قائم اور باطل کو زاء کرنے کے لئے نہ ہوتو وہ دنیا کی پست ترین شے سے بھی زیادہ پست تھی ۔ یہی سبب ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی ؑ کے نزدیک اس حکومت کی قیمت جو عدل وانصاف قائم کرنے میں ناکام ہو ان کی پھٹی ہوئی جوتی سے بھی کمتر تھی جس میں سماج کے مظلوم و محرم طبقہ کو انصاف نہ مل سکے۔ وہ ابن عباس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں’’ابن عباس تمہارے خیال میں میری اس پھٹی ہوئی جوتی کی قیمت کی ہے‘‘ ابن عباس نے کہا اس کی قیمت ہی کیا ، کچھ نہیں۔ حضرت علی ؑ نے فرمایج’’یہ جوتی مجھے تم لوگوں کی حکومت و سلطنت سے زیادہ عزیز ہے اگر اس میں کسی کا حق قائم نہ کر سکوں ‘‘۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/حضرت-علیؑ-کا-طرز-جہاں-بانی/d/1737