Monday, July 2, 2012
عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 30, Urdu Section, NewAgeIslam.com
عورت اور ا ن پر مردوں کی جھوٹی فضیلت : قسط 29,
نسبت امر دل ہم اہل اسلام ہندوستان کی حالت نہایت قابل افسوس پاتے ہیں ۔صرف یہ ہی نہیں کہ انہوں نے کوئی عام حد عمر نکاح مقرر نہیں کی یا بہت صغر سنی میں نکاح کیا جاتا ہے بلکہ دودھ پیتے بچوں او رکبھی کبھی بن پیدا ہوئے بچوں کا جو ابھی پیٹ سے جنیں ہوتے ہیں رشتہ ہوجاتا ہے جو نکاح سےبھی زیادہ موکد اور ناقابل اکتنسیخ ہوتا ہے۔ اس قسم کے ازدواج سے صرف یہ ہی نقصان نہیں ہوتا کہ فریقین ازدواج اس خود معاشرتی سے جو خوشی کے انتخاب و پسندیدگی کا نتیجہ ہے محروم رہ کرنا موافقت باہمی کدورت کی تلخی تام عمر چکھتے ہیں بلکہ اس زبردستی کے رشتہ کے ہوجانے کے بعد نکاح بھی ایسی صغرسنی میں ہوجاتا ہے کہ اس وقت تک لڑکے اور لڑکی کے اعضا کا نشوونما اس رشتہ کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لئے جو بچے بچپن میں ہی شوہر و زوجہ او رچند روز بعد باپ اور ماں بن جاتے ہیں ان کی صحت کو ایسے سخت صدمے اٹھانے پڑتے ہیں کہ پھر کسی قسم کی تدبیر یا علاج سے تمام عمر اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ۔
جن شرائط پر دوسرے مقصد کا حصول ہے وہ بھی نکاح مروجہ میں کلی طور پر مفقود ہوتی ہیں اول تو شوہر کو زوجہ کے پسند کرنے کا اختیار ہی نہیں ہو تا اور اگر ہوتا بھی ہے تو دس بارہ برس کا بچہ کیا جان سکتا ہے کہ میں کس قسم کا اور کتنی مدت کےلئے معاہدہ کرتاہوں اور اس کا کیا اثر میری کل زندگی پر ہوگا لیکن اس قدر صغر سنی میں نکاح ہونا ایسا صریحا مذموم امر ہے کہ اس کی مذمت سے عموماً لوگ واقف ہوگئے ہیں اس لئے اس امر پر زیادہ زور دینا ضروری ہے ۔ لیکن جو نکاح عموماً زمانہ بلوغت یا اس سے بھی بعد عمل میں آتے ہیں ان کے پسندیدہ ہونے میں شاید بہت کم لوگوں کو کلام ہوگا ۔مگر ہم ان نکاحوں کو بھی سخت قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تجربہ ہے کہ کسی صورت میں لڑکی کو تو اپنے لئے شوہر کے پسند کرنے یا اس بات میں کچھ ضعیف سی بھی رائے دینے کا اختیار ہوتا ہی نہیں الا سمجھنا بھی کہ لڑکوں کو ایسا اختیار حاصل ہوتا ہے صریح غلطی ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ بزرگوں کا بزرگانہ دباؤ اور عزیز واقربا کا زبردست لحاظ اور دوستوں کی پاس خاطران سب امور کا مجتمع قوی اثر بیچارہ لڑکے پر ڈال کر اس سے شرما شرمی کسی نہ کسی طرح اظہار پسندیدگی کر والیتے ہیں ۔مگر آیا یہ ان کی دلی اور حقیقی پسندید گی ہوتی ہے ان کی متاہلا نہ زندگی کے طریق عمل سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ا-ن-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت---قسط-29/d/2188
Friday, June 29, 2012
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:چھٹی قسط, Urdu Section, NewAgeIslam.com
مولوی ممتاز علی کی مائیہ ناز تصنیف ‘‘حقوق نسواں’’
پس تقسیم ترکہ میں حصص شرعی مردوں کی فضیلت کا ثبوت نہیں بلکہ عورتوں کی فضیلت کی دلیل ہیں۔ ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا ۔ آدم کو پہلے پیدا کرنے کی بنیاد پر جو دلیل قائم کی گئی ہے وہ اس قسم کی بات ہے جیسے بچے کھسیا نے ہوکر باتیں کرتےہیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا وندتعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ عورت ایک دم بھی بے خدمت گزار کے رہنے کی زحمت اٹھائے ۔ اس لئے اس کے آرام کے لئے سب سے اول آدم کو پیدا کیا پھر اس کی بیوی کو۔
اگر تحقیق پوچھو تو یہ عقیدہ کہ پہلے آدم پیدا ہوئے۔ پھر حواّ نصرانیوں او ریہودیوں کا عقیدہ ہے۔ مذہب اسلام میں اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے ۔قرآن مجید سے آدم اور اس کے جوڑے کے پیدائش میں کوئی تقدم و تاخر ثابت نہیں ہے۔ مردوں کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں کا نکاح جائز ہونا اور اس کا عکس جائز نہ ہونا محض غلط بیانی اور تحکم کی بات ہے۔ مشکل یہ ہے کہ لوگ الفاظ کی پیروی پر مرتےہیں اور بجائے اس کے معنی سخن اورحقیقت مراد الہٰی تک پے لے جائیں اصطلاحات کی بحث پسند کرتے اور مخالف کو ساکت کردینا غایت مناظرہ سمجھتے ہیں ۔ لوگو ں نے قرآن مجید میں پڑھا کہ فانکحوا ماطاب لکم من النسا مثنیٰ وثلاث ورباع او ر خوش ہوگئے کہ قرآن مجید میں چار بیبیاں تک نکاح میں لانے کی اجازت صریح موجود ہے۔ حالانکہ اگر ذرا و تعمق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو قرآن مجید سے کوئی اس قسم کی صریح اجازت نہیں نکلتی بلکہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ نکاح کرنا بالکل جائزثابت ہوتا ہے اور کاس کا مرتکب حرام کاری ٹھہر تا ہے۔
http://www.newageislam.com/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-چھٹی--قسط/urdu-section/d/2078