Showing posts with label جاہل بیوی. Show all posts
Showing posts with label جاہل بیوی. Show all posts

Monday, July 2, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: آخری قسط, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: آخری قسط

بیوی کو لازم ہے کہ اگر کوئی کام جو خود اس کے اپنے کرنے کاہے اپنے شوہر کو کرتا دیکھے خواہ اس نے اس کےلئے بیوی کو کہا ہو یا نہ تو اس سے نہایت معذرت کے ساتھ لے لے اورکہے کہ جب میں موجود ہوں تو آپ خود کیوں تکلیف کرتے ہیں۔ اگر شوہر اس سے پہلے اس کے کرنے کےلئے کہہ چکا ہے تو عذر کر نا چاہئے کہ میں بھول گئی تھی یا مجھے خیال نہ رہا تھا ورنہ میں کیو ں اس کام کو نہ کرتی۔ لیکن اگر بیوی اس ذرا سے معاملہ پر سکوت کرے گی یا شوہر کے اس طرح کام کرنے کو اس کا شوقیہ کام سمجھ لے گی تو یہ اس کی سخت غلطی ہوگی اور شوہر کے دل میں کدورت اور رنج بٹھا نے کا باعث ہوگی۔

شوہر وزوجہ کے درمیان رنجش کی وجہ زوجہ کے تعلیم یافتہ ہونے کی حالت میں کبھی یہ ہوتی ہے کہ زو جہ کسی خفیہ پتہ پر اپنے عزیزوں سے خط وکتابت رکھتی ہے، جس سے شوہر کو طرح طرح کے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ شوہر وزوجہ رشتہ اتحاد اور آپس کے پورے اعتماد کا ہے ۔ اس حالت میں زوجہ کو کوئی خط وکتابت بلا اجازت وعلم شوہر نہیں کرنی چاہئے اور سب سے بہتر انتظام یہ ہے کہ زوجہ ہمیشہ اپنے خطوط کھلے لفافہ میں شوہر کے حوالہ کرے۔ لیکن اگر بدقسمتی سے آپس میں اس قدر اتحاد و اعتماد نہ ہو تب شوہر کو بھی ہر گز زوجہ کے خطوط کو دیکھنے کے درپے نہیں ہوناچاہئے ۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ اس کی زوجہ کسی اور خفیہ پتہ پر خط وکتابت کرے گی جو زیادہ بدنامی کا موجب ہے۔ پس شوہر کو چاہئے کہ ایسے حالات میں اپنے طریق عمل سے یقین دلانا چاہئے کہ وہ اس کے خطوط کے دیکھنے کے درپے دلانا چاہئے کہ وہ اس کے خطوط کے دیکھنے کے درپے نہیں ہے اور بیوی کی اس بے اعتماد ی پرصبر کرے۔

سب سے اخیر نصیحت یہ ہے کہ ان فرائض میں سے اگر کچھ کوتاہی ہوجائے مثلاً ترک ادب، یا ترک اطاعت ، یا کوئی امر خلاف محبت تو بیوی کو لازم ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو اپنے شوہر سے اس فرد گذاشت کی بابت معذرت طلب کرے۔ اگر کوئی کلمہ ارادتاً سہوایاً غصہ میں منہ سے خلاف شان شوہر نکلا ہو اور شوہر باوجود اس کے خوش نظر آتاہو تو اس کی خوشی پر پھولنا نہیں چاہئے اور یادرکھنا چاہئے کہ اس کلمہ کی نسبت جب تک تم معذرت نہ کروگی شوہر کے دل میں ضرور کھٹکتا رہے گا۔ معذرت کےطلب کرنے میں کبھی شرم نہیں کرنی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ شرم ایسی مضر نہیں ہے جیسا شوہر کے دل میں کسی رنجش کاجاگزیں رہنا ،بعض عورتیں جو بہت ہوشیار ہوتی ہیں اور طریق معذرت کا اختیار کرتی ہیں۔ کبھی تو وہ یہ کرتی ہیں کہ شوہر کو غصہ میں جو چاہیں کہہ لیتی ہیں۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--آخری-قسط/d/2318



عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 51, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 51
بیبیوں کو خیال کرنا چاہئے کہ ان کا شوہر کس محنت اور تکلیف سے روپیہ کماتا ہے ۔ جس تکلیف سے وہ اس روپیہ کو پیدا کرتاہے اسی دردمندی کے ساتھ اس کو خرچ کرناچاہئے ۔ بجا اور بے جا خرچ کی شناخت کے لئے یہ اصول مقرر کرنا چاہئے کہ جب کوئی چیز بنوانی یا خرید کرنے کا ارادہ ہوتو اس وقت یہ دیکھا جائے کہ اگر یہ چیز گھر میں نہ ہوتو کچھ حرج یا قباحت ہے کہ نہیں۔ اگر کوئی ہرج یا قباحت نہ ہوتو جانو کہ یہ چیز فضول ہے اور روپیہ کو ایسے فضول طور پر ضائع کرنے سے بچانا چاہئے ۔ اس زمانہ میں آرام طلبی اور عیش پسندی کے سامان زیادہ ہوتے جاتے ہیں جن کی حقیقت میں کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ پس ان کے طلب میں ہرگز نہیں پڑنا چاہئے ۔ بیوی کو کفایت شعاری کے لحاظ سے ہر چیز کا حساب رکھنا چاہئے اور خصوصاً خاص اپنے اخراجات کا اور شوہر کے اخراجات کا تاکہ اس کو ہمیشہ یہ بات یادر ہے کہ خاص میر ی ذات کے لئے کس قدر خرچ کی ضرورت ہے اور اس میں بغیر اشد ضرورت کے اور زیادتی نہ ہو اور یہ بھی خیال رہے کہ عمدہ سے عمدہ انتظام کرلینا آسان ہے لیکن کمانا بہت مشکل ہے ۔ پس انتظام کرنے والے کے اخراجات کمانے والے کے اخراجات سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں ۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس طرح اپنی حیثیت سے اترکر گھٹیاطریق زندگی اختیار کرنا خشت اور کنجوسی کہلاتا ہے اسی طرح اپنی حیثیت سے بڑھ کر بڑے آدمیوں کی ریس کرنا اور ان کا سا لباس اور طریقت معاشرت اختیار کرنا اوچھا پن کہلاتا ہے اور ایسا کرنے والوں پر لوگ کو سامنے کچھ نہ کہیں لیکن پیٹھ پیچھے ضرور ہنستے ہیں۔ ہماری قوم کے شرفا کے دستور کے موافق متوسط اور اعلیٰ درجہ کے لوگوں کا اور ان کے مستورات کا باہم ملنا ملانا ایک عام بات ہے ۔ دس روپیہ کا محررڈپٹی کلکٹر سےملتا ہے اور اسی طرح ان کی بیویاں بھی باہم ملتی جلتی ہیں ۔ اب اگر ایک ادنیٰ محرر کی بیوی ایسے عمدہ داروں کی بیویوں کی ریس کرنے لگے تو قطع اس کے کہ وہ اپنے شوہر کے لئے بلائے جان بننا چاہتی ہے وہ اپنی جگ ہنسائی کرواتی ہے۔

Friday, June 29, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 12, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 12

مولوی ممتاز علی کی مائینہ ناز تصنیف‘‘حقوق النسواں’’

مگر کیا ان مضمونو ں کی کتابوں کے پڑھانے کی مخالفت ہم اس وجہ سے کرتے ہیں کہ عورتوں کے مزاج میں کوئی ایسی خصوصیت ہے جو اس تعلیم کی منافی ہے۔ نہیں یہ بھی نہیں بلکہ ہم ان کتابوں کا پڑھانا صرف اس نظرسے ناپسند کرتے ہیں کہ جن اغراض کے لئے ہم عورتوں کی تعلیم ضروری سمجھتے ہیں ان اغراض کے لئے ان کتابوں کا فی الحال پڑھانا چنداں مفید نہیں ہے۔ عورتوں کی تعلیم کی ضرورت کے لئے کوئی تو یہ دلیل لاتا ہے کہ تعلیم پاکر وہ اپنے پرائے کے حقوق سے بخوبی آگاہ ہوجائیں گی۔ کوئی کہتا ہے کہ خانہ داری نہایت سلیقہ سے کرنے لگیں گی۔ کوئی فرماتے ہیں کہ بے علم نتواں خداراشناخت ۔ یہ سب دلائل صحیح ہیں مگر اصلی امری یہ ہے کہ یہ سب خوش کرنے کی باتیں اور دلائل کی تعداد بڑھانے کا حیلہ ہے ۔ موجودہ تمدنی حالت میں عورت باوجود اپنی جہالت کے جملہ حقوق سے آگاہ۔ خانہ داری میں نہایت سگھڑ اور طاعت وعبادت الہٰی کی شائق پائی جاتی ہیں۔ بے شک یہ صحیح ہےکہ بے علم معرفت الہٰی ممکن نہیں ہے مگر جس علم سے یہ بات حاصل ہوتی ہے وہ اور علم ہے۔ مرات العروس اور زبد ۃ الحساب سے عرفان الہٰی میں کسی درجہ کے حاصل کرنے کی امید رکھنا خیال بے ہودہ ہے۔ کتابیں لکھنے والے اور تقریریں کرنے والے عورتوں کی تعلیم کے فرضی اور خیالی فائدے کچھ ہی بتایا کریں اور وہ کسی حد تک صحیح بھی ہوں مگر جہاں تک ہم کو لوگوں کے مزاج شناسی کا تجربہ ہوا ہے اس کے رو سے کہہ سکتے ہیں کہ عورتوں کو تعلیم دینا زیادہ تر اس غرض سے ہے کہ ان کی صحبت باعث مسرت اور ان کی ہمکلامی دلچسپ او رموجب تفریح و انشراح خاطر ہو۔ اگر چہ الفت و محبت کا مدار تعلیم یافتہ بے تعلیم ہونے پر نہیں لیکن الفت دلی اور خلوص قلبی کا اظہار اور ان اصول کو ترقی دینا جو سچے انس اور محبت کے سرچشمے ہیں جیسا تعلیم یافتہ بیوی سے ہوسکتا ہے وہ ناخواندہ سے نہیں ہوسکتا۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-12/d/2106


Friday, June 22, 2012

مسلمانوں کی گرتی شرح پیدائش تشویش ناک, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
مسلمانوں کی گرتی شرح پیدائش تشویش ناک

سیف شاہین، نیو ایج اسلام

ایک عام مسلمان خاندان کا آپ کے ذہن میں کیا تصور ہوگا؟ خدا سے ڈرنے والا شوہر، جاہل بیوی (یا بیویاں) اور بڑی تعداد میں دروازے توڑ کر گھر سے باہر سڑکوں پر آ رہے بچے ؟ تاہم، ایسا نہیں ہے جیسا کہ ایک عام مسلمان خاندان کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے یا آنے والے سالوں میں ایسا نظر نہیں آئے گا۔

نئی تحقیق نے دنیا بھر میں مسلم خواتین کی شرح پیدائش یا بچوں کی پیدائش کی تعداد میں تاریخی اعتبار سے غیر معمولی کمی ظاہر کی ہے، مشرق وسطی جیسے مسلم اکثریت والے ممالک میں کمی نے پہلے سے ہی انہیں مغرب کے برابر لا کھڑا کیا ہے جہاں بزرگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ایسے بھی خدشات ہیں کہ شرح پیدائش میں مزید کمی آئے گی۔

اس رجحان کے سخت منفی اثرات سامنے ہیں۔ جیسے، اول، مسلم معاشروں میں کام کرنے والی آبادی کی تعداد کم ہو رہی ہے، کیونکہ کم بچے پیدا ہو رہے ہیں جو ان کو ایسے حالات کی طرف لے جا رہا ہے جیسا مغربی ممالک پہلے سامنا کر چکے ہیں۔ دوم، مغرب ممالک پہلے سے ہی تعلیم، ترقی، اور خاندان کی آمدنی کی اعلی سطح حاصل کر چکے ہیں، اور ایشیا اور افریقہ میں زیادہ تر مسلم ممالک کی بڑی آبادی کے ناخواندہ، پسماندہ اور خاندان کی انتہائی کم آمدنی کے با وجود، آبادیاتی جمود کا سامنا کر رہے ہیں۔

گرتی ہوئی شرح پیدائش

2009 میں، پیو فورم آن ریلیجیئن اینڈ پبلک لائف نے مسلمانوں کی عالمی آبادی تقریباً 1.6 ارب، یا اس وقت کی عالمی آبادی کا 23 فیصد تخمینہ لگایا تھا۔ تاہم، ترقی یافتہ ممالک میں مسلمانوں کی آبادی بہت کم ہے جو صرف 3 فیصد کے آس پاس ہے۔ اس کا مطلب یہ مسلمانوں کی اکثریت دنیا کے کم ترقی یافتہ حصوں میں رہتی ہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/مسلمانوں-کی-گرتی-شرح--پیدائش-تشویش-ناک/d/7668