Sunday, July 1, 2012
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 27, Urdu Section, NewAgeIslam.com
Saturday, June 30, 2012
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 36, Urdu Section, NewAgeIslam.com
حقوق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی ۔مولوی ممتاز علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے ۔حقو ق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقوق پر پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پر نام نہاد برتری اور فضلیت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ،بلکہ ان مفسرین کے ذہنی روبہ کا نتیجہ ہے ،جو مردانہ شاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا ۔کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی ،لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا او رکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روزنامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔ایڈیٹر
(۶) دیگر مستورات خاندان کے ہمراہ اس کا سلوک کیسا ہے۔
ان امور پرذرا سی توجہ کرنے سے سب حال آئینہ ہوسکتا ہے چنانچہ ان امور کی تھوڑی سی تشریح ضروری ہے۔
(۱) بعض خاندانوں میں موروثی رسم ازدواج ثانی کی چلی آتی ہے اور سب مرد دودو بیویاں رکھتے ہیں ایسی صورت میں ہر فرد کی نسبت یہ ہی قیاس ہوگا بجز اس کے کہ قرآئن قومی اس کے خلاف ہوں ۔ اس واسطے باپ ودیگر رشتہ داران کا چال چلن ملا حظہ کرنا ضروری ہے۔
(۲) چونکہ ہر شخص اپنے ہم خیال کی صحبت پسند کرتا ہے پس دوستوں کے چال اور خیالات سے قریباً صحیح پتہ لڑکے کے چال چلن کا لگ جائے گا۔
(۳) اسی طرح کتابوں سے چال چلن کا پتہ بخوبی لگ جائے گا ۔آیا اخلاق اور تصوف اور دیندار ی کی کتابیں پڑھتا رہتا ہے یا ناپاک ناول پسند خاطر ہیں۔
(۴) دن رات کے مشاغل سے بہت کچھ حال لڑکے کا کھل جانا ہے۔بعض لڑکے اپنے اوقات کبوتر بازی میں صرف کرتے ہیں ۔بعض دن بھر کنکوے بناتے اور مانجھا تیار کرتے رہتے ہیں ۔ بعض شطرنج کی بازی جمائے رہتے ہیں۔
(۵) چونکہ اچھے کواچھا اور برے کو برا سب کہا کرتے ہیں اس واسطے عام شہرت سے بھی بہت حال کھل سکتا ہے ۔
(۶) عام مستورات کے ساتھ سلوک دیکھنا بہت ضروری امر ہے۔ بعض لڑکے باوجود نیک چلن اور خوش وضع اور تعلیم یافتہ ہونے کے مستورات کی طرف سے قدرتی بے توجہی رکھتےہیں ۔ اگر ماں بیمار ہوجائے تو ان کی بلا سے اور بہن پر مصیبت ہوتو ان کی جوتی سے ایسے تو جوتوں کو اکثر دیکھا ہے کہ متاہل ہوکر بیوی کے ساتھ کوئی گہری الفت نہیں رکھتے ۔ اور ان کی بیویاں ہمیشہ ان کے روکھے پن اور بے رخی کی شاکی پائی جاتی ہیں۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-36/d/2224
Friday, June 29, 2012
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 23, Urdu Section, NewAgeIslam.com
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اسما جس طرح او ر لوگوں کے روبرو ہوتی تھیں اسی طرح اپنے جیٹھ پیغمبر خدا کے روبرو ہوتی تھیں انہوں نے کوئی فرق پردہ کے باب میں اپنے جیٹھ یعنی پیغمبر خدا اور غیر محرموں میں نہیں رکھا تھا ۔ نہ رسول خدانے کوئی اس قسم کا فرق ان کا بتلا یا تم اور غیرمحرموں کے روبرو تو ہوا کرو اور ہمارے روبرو ہونا موت کے برابر خطرناک سمجھو ہاں وہی مزاجوں کے وہم سے کچھ بعید نہیں کہ وہ یہ کہیں کہ ممکن ہے کہ اس وقت اسما کے منہ پر برقع پڑا ہوا اور وہ گھوڑے کو چرا کر اور بوجھ سر پراٹھا کر برقع اوڑھے آرہی ہوں اور پیغمبر خدا نے محض بیرونی قرائن سے ان کو شناخت کرلیا ہو مگر ان وسوسوں کا علاج بجزلا حول پڑھنے کے اور کچھ نہیں یا زیادہ اطمینان چاہو تو اس حدیث کو ملاحظہ کرو جو صاحب فتح القدیر نے نقل کی ہے اور جن کامضمون یہ ہے کہ ایک مرتبہ اسما نہایت مہین کپڑے پہن کر آپ کی خدمت میں آئیں آپ نے فرمایا کے اے اسما جب لڑکی بالغ ہوجائے تو اس کو سوائے ہاتھ او رچہرہ کے کوئی حصہ جسم کا غیر محرم لوگوں کے سامنے نہیں کھولنا چاہیے ۔پس کچھ شک نہیں کہ اولا اس حدیث کے وہ معنے ہیں جو اخیر میں بیان ہوئے اور ثانیاً اس حدیث میں جو ممانعت ہے وہ عورت کے پاس صرف تنہا ئی میں جانے کی ہے۔ محرم رشتہ داروں کی موجودگی میں کسی عورت کے پاس جانے ممانعت نہیں ہے۔
شبہ دوم: ام سلمہ کی حدیث سے جس کو اصحاب نے بیان کیا ہے ثابت ہوتا ہے کہ جناب پیغمبر خدا نے ام سلمہ کو عبداللہ ابن مکتوم کے روبرو ہونے سے منع کیا حالانکہ وہ محض نابینا تھا اور فرمایا کہ وہ اندھا ہے تم اندھی نہیں ہو۔
جواب: اگر یہی بات ہے تو عورت کو مرد کے چہرہ پر نظر ڈالنی بالکل حرام ہوتی لیکن جب مستورات برقع یا چادر اوڑھ کر باہر نکلتی ہیں تو ان کی نظر اجنبی مردوں کے چہروں پر ضرور پڑتی ہے گومردان کو نہ دیکھ سکیں ۔پس وہ ہی اعتراض صحیح ہوتا تو ازواج مطہرات کی نسبت کیا کہا جائے گا جو عیدین میں آتی جاتی تھیں اور باہر اپنے حوائج ضروری کو نکلتی تھیں اور خانہ کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ کیا معاذ اللہ ان کا یہ فعل ناجائز تھا اور رسول خدا اس ناجائز فعل پرسکوت فرماتے تھے۔ ہر گز نہیں ۔ اس لئے ایسا معلوم ہوتا ہے کے چونکہ عبداللہ ابن مکتوم نا بینا تھا ممکن ہے کہ اس کے لباس میں بلحاظ ستر عورت کوئی ایسا نقص ہو جس کی وجہ سے اس کا ام سلمہ کے روبرو ہونا نامناسب سمجھا گیا ہو۔ چنانچہ علامہ ابن حجرنے بخاری میں یہی لکھا ہے کہ عبداللہ ابن مکتوم کا کوئی جزوبدن ضرور کھلا ہوگا جس کی اس کو بوجہ نابینا ہونے کے خبر نہ ہوگی اور اجنبی لوگوں کے چہرے دیکھنے کے جواز کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ہمیشہ عمل یہ ہی رہا ہے کہ مستورات مساجد اور بازاروں اور سفر کو جاتی تھیں او رنقاب ڈال لیتی تھیں کہ مرد نہ دیکھیں مگر مردوں کو کبھی یہ حکم نہیں ہوا کہ وہ اپنے چہرے پرنقاب ڈالا کر یں کہ ان کو مستورات دیکھنے نہ پائیں ۔ اسی واسطے امام غزالی بھی اس جواز پر یہی حجت لائے ہیں او رکہا ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ عورت کو اجنبی مرد کے چہرہ کا دیکھنا ناجائز ہے۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-23/d/2161