Showing posts with label خاموشی. Show all posts
Showing posts with label خاموشی. Show all posts

Sunday, July 1, 2012

خواتین کربلا کا مثالی کردار, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
خواتین کربلا کا مثالی کردار

علی ظہیر نقوی

کربلا تاریخ اسلام کا وہ عظیم المیہ ہےجس کی یاد صدیاں گزرجانے کے بعد دنیا ئے انسانیت آج بھی مناتی ہے۔پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کو ابھی نصف صدی بھی نہ گزری تھی کہ ملوکیت نے سراٹھا کر اسلامی نظام حیات کی بنیاد یں کھوکھلی کرنا شروع کردیں۔یزید کی بداعمالیوں نے ظلم کا ایسا بازار گرم کیا کہ برگزیدہ لوگ بھی سکون کا راستہ اختیار کرنے میں عافیت محسوس کرنے لگے ۔رسول اسلامؐ نے زمانے کے سامنے انسانیت کا جو اسلامی دستور پیش کیا تھا ،یزید کے ہاتھوں پامالی سے دور چار ہونے لگا ۔فرزند رسولؐ آخر فرزند رسولؐ تھے وہ اسلامی اصولوں کی پامالی دیکھ کر آخر خاموش کیسے رہ سکتے تھے ۔انہوں نے بقائے حق اور بقائے انسانیت کی راہ میں اپنی ناموس وعترت کو خطرات میں ڈال دیا۔ اپنے جگر پاروں کو قربان کردیا۔ اپنے مثالی احباب و انصار کی قربانی دے دی یہاں تک کہ اپنے قراقدس کا نذرانہ راہ خدا میں پیش کردیا، لیکن زمانہ کی باطل قوت یزید کے سامنے اپنا سرتسلیم خم نہ کر کے سوال بیعت فاسق کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹھکرادیا ۔ اسلامی اقدار کو حیاب نو اور انسانیت کو سرخ رو کرنے والی کربلا کی تاریخ ساز جنگ میں خواتین کربلا کی بے مثل قربانیوں سے نکار گزیرہے، جسے تاریخ انسانیت نے ہمیشہ جلی حروف میں لکھا ہے۔کربلا کی ان مثالی خواتین نے باطل قوتوں کے مقابل اپنےمعصوم بچوں کو بھوک وپیاس کی شدت سے بلکتا ہوا دیکھنا گوارا کیا، یہاں تک کہ اپنے سہاگ کو بھی راہ خدا میں قربان ہوتےدیکھا لیکن رسول اسلام ؐ کے دین کی کشتی انسانیت کو ڈوبنے نہیں دیا ۔واقعہ کربلا کو بے نظیر ولاثانی بنانے میں خواتین کربلا کے بے مثل ایثار سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/خواتین-کربلا-کا-مثالی-کردار/d/2292


Friday, June 29, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 14, Urdu Section,

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 14

حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

مگر یہ کتابیں نہ کسی کمیٹی نے لڑکیوں کے واسطے منتحب کی تھیں ۔ نہ ان کتابوں کو ان کے مصنفوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے واسطے تصنیف کیا تھا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں اردو زبان کا علم ادب انہیں کتابوں پر مشتمل تھا ۔مگر ایسا بھی نہ تھا کہ اردو میں بالکل او رکچھ نہ تھا۔ اور جب اس اردو علم کا دروازہ لڑکیوں پر کھل جاتا تھا تو اسی راستہ سے گل بگاؤ لی اور بدر منیر اور چہار درویش بھی گھس آتی تھیں خود چہار درویش جس نے حضرت نظام الدین اولیا اور خسرو کے بابرکت ناموں سے بزرگی حاصل کرلی ہے۔ چہار درویش سادہ بے تکلف اردو کا عمدہ ترین نمونہ ہے۔ اس کی زبان کی سلاست اور سادگی اور فارسی عربی کی امیز ش سے خالی ہونا حقیقت میں بے حد تعریف کے قابل ہے مگر اس کے بعض قصے اس قدر فحش ہیں کہ لڑکیاں تو کیا لڑکوں کے پڑھنے کے بھی قابل نہیں ۔ اس زمانہ کا لٹریچر بہت وسیع ہوگیا ہے مگر جس طرح اچھی کتابوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اسی طرح بری کتابوں کی سب سے زیادہ انبار اردو میں ناولوں کا ہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-14/d/2113


Wednesday, June 27, 2012

الوداع اے ماہِ رمضان الوداع, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
الوداع اے ماہِ رمضان الوداع

نصرت ظہیر

برسوں پہلے کےوہ شب وروز آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہیں، جب رمضان کا آخری ہفتہ آتے آتے روزہ داروں کےچہروں سےجھلکنے والی پر نور نقاہت میں افسردگی کی بھی ایک لکیر نمایاں ہونے لگتی تھی۔ یہ احساس کہ بس اب چند روز میں سحر وافطار کا یہ سلسلہ منقطع ہوجائے گا، لوگوں کواکثر اداس کردیا کرتا تھا ۔رمضان کی آخری سحری کی راتوں میں ہمارے پڑوسی ناظم علی خاں مرحوم کی میلاد پارٹی ، جب سہارنپور کی سڑکوں پروداع نامہ گاتے ہوئے گزرتی تھی تو دل پر ایک عجیب ہی اثر ہوتا تھا۔ گہری سیاہ رات .....آگے آگے کوئی بڑا سا پیٹرو میکس لیمپ کاندھے پر اٹھائے چل رہا ہے ، اس کی روشنی میں ناظم خاں اور ان کے ایک خوش الحان دوست ،جن کا نام اب یاد نہیں ،میلاد کے نعتیہ کلام کا بڑا سا رجسٹرار اٹھائے نعتیں پڑھتےہوئے آہستہ قدمو ں سے آرہے ہیں اور ان کے پیچھے بیس تیس لوگوں کی ایک ٹولی لے میں لے ملا کر نعتوں کے مصرعے اٹھاتی ہوئی سڑک سے گزررہی ہے....یا نبی سلام علیک –یا حبیب سلام علیک – یارسول سلام علیک- صلوات اللہ علیک ....سحری میں آنکھ کھلنے پر رات کی خاموشی میں دور سے آتی ہوئی ناظم خاں اور ان کے ساتھیوں کی سوز میں ڈوبی ہوئی آواز .....

ہوئی آواز.....

الوداع اے ماہِ رمضان الوداع.....

سن کر دل جیسے غم سے بھر جاتا تھا۔

اور پھر آخری افطار کا منظر ....بڑی سی سفید چادر پر افطاری سے سجا ہوا پرُ بہار دستر خوان....روزہ کھولنے کے وقت کا اعلان کرنے والے گولے کے دغنے کا انتظار .....اور اس انتظار پر غالب آجانے والا یہ احساس کہ کل سے یہ دستر خوان یوں سجے گا.....عید کے چاند کی خوشی بھی کچھ کم سی ہوجاتی تھی......یہ باتیں تب کی ہیں، جب کوئی آتا تھا تو دل خوش ہوتے تھے اور جاتا تھا تو آنسو ؤں سےرخصت کیا جاتا تھا۔ آج اس سب کی فرصت کہاں....اور ہو بھی تو خیال کسے آتا ہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/الوداع-اے-ماہِ-رمضان-الوداع/d/1772