Showing posts with label حاصل. Show all posts
Showing posts with label حاصل. Show all posts

Sunday, July 1, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط 46, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت :قسط 46

ان تمام خرابیوں کا علاج مردوں میں اعلیٰ درجہ کی تعلیم کا پھیلا نا اور ان میں نیک خیالات کا پیدا کرنا ہے۔ عورتوں کے حقوق قائم نہیں ہوسکتے اور ان کی حفاظت نہیں ہوسکتی اور ان کی حفاظت نہیں کی جاسکتی اور جو ظالمانہ بدسلوکیاں ان کے ساتھ کی جاتی ہیں وہ رک نہیں سکتیں اور ان میں ادنیٰ ترین درجہ کی تعلیم ذرا بھی ترقی نہیں پاسکتی تا وقت یہ کہ مردوں میں اعلیٰ درجہ کی تعلیم نہ پھیلائی جائے اور اس تعلیم کے ذریعہ سے ان امور کی ضرورت ان کو ذہن نشین نہ ہوجائے اور نہ صرف تعلیم ہی کافی ہوگئی بلکہ اس کے ساتھ اعلیٰ اخلاقی تربیت اور نیک صحبت کی ضرورت ہے جو ان کے دلوں کو سچائی اور نیک دلی کے سانچہ میں ڈھال دے۔ جس سے ان کے دل پاکیزہ خیالات اور نیک جذبات کے ساتھ ایسی مناسبت پیدا کرلیں کہ وہ اس کے آرام وخوشی کے ضروری شرط بن جائیں۔ جب تک اس قسم کی تعلیم سے ہماری قوم کے مردوں میں روشن دماغی اور نیک تربیت سے ان کے دلوں میں خدا ترقی پیدا نہ ہوگی کیا ممکن ہےکہ ہماری چند سطور ان کے صفحہ دل پر کوئی گہرا نقش اور ان کی طبیعتوں کی ماہیت کو بدل سکیں ہمارے ان اوراق کواگر کوئی پڑھنے والے ہوں گے تو وہ ہی جن کو اعلیٰ تعلیم اور نیک تربیت نے اس انقلاب کے لئے جس کی ہم نے تجویز کی ہے مستعد کردیا ہے۔ ساتھ ہی اس کے ہم ضرور سمجھتے ہیں کہ جن لوگوں پر عورت کی تمدنی حالت میں انقلاب پیدا کرنے کی ضرورت روشن ہوگئی ہے وہ منتظر نہ رہیں کہ اور لوگ بھی ان کے ہم آہنگ ہوں تب وہ اپنے یقین و ثوق پر کار بند ہوں، بلکہ چند نیک اور پاکیزہ خیال والوں کے عمل خود اپنا قدرتی اثر دیکھنے والوں کے دل پر کریں گےاور ان کوبھی اسی طریق عمل ہوگا گروید ہ بنائیں گے۔

مگر ہاں از بس ضرور ہے کہ جن لوگوں پر عورت کی تمدنی حالت کو شریعت کی راہ پر لانے کی ضرورت اور موجود ہ گمراہی کی بے حد مضرت واضح ہوچکی ہے ان لوگوں کو اپنے باہمی اتفاق رائے سے اپنی جمعیت کو قومی اور موثر بنانا چاہئے اور اپنے واضاع واطوار او رچلن کو شریعت محمدی کا اعلیٰ نمونہ بنانا چاہئے جو اور لوگوں کی تقلید کے لئے عمدہ مثال ہو۔ انسان کو کسی کام کرنے اور کسی کام کو ترک کرنے پر بیک مثال سے زیادہ کوئی شے ترغیب دینے والی نہیں ۔بجائے ا سکے کہ کسی نیک کام کے فائدے دلائل سے ثابت کرو اور طول طویل تقریریں کرو اور لوگوں کو اس کے اختیار کرنے پر مائل کرو تم خود اس پر عمل کرو اور دنیا کو دکھلاؤ کہ احکام شرعی کی ٹھیک متابعت سے کیا کیا دینی اور دنیاوی فائدے تم کو حاصل ہوئے اور لوگ خود تمہاری پیروی کریں گے ۔ کسی شخص نے ریل پر سوار ہونے کے فائدوں کو دلائل سے ثابت کیا تھا کہ تمام خلقت ا س پر سوار ہوتی ہے؟کس شخص نے بجائے دیسی کپڑے کے انگریزی کپڑا پہنتے ہیں ؟ لوگوں نے ریل پر سوار ہونے والوں کو منزل مقصود پر جلد پہنچتے دیکھا اور وہ بھی سوار ہونے لگے۔ انگریزی کپڑا پہننے میں کفایت پائی اور وہ انگریزی کپڑا پہننے لگے ۔ اسی طرح جب وہ طریق شرعی کی مثابعت میں لوگوں کو خوش حال اور شادماں پائیں گے وہ خود پیروی کرنے پر راغب ہوں گے۔(جاری)

Thursday, June 28, 2012

یہ وقت قدیم اور جدید کی بحث میں الجھنے کا نہیں, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
یہ وقت قدیم اور جدید کی بحث میں الجھنے کا نہیں

پروفیسر اختر الواسع

1857میں سیاسی بساط الٹ جانے کے بعد ہمارے بزرگوں نے دور غلامی میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم سیاسی آزادی کھودینے کے باوجود اپنی تعلیمی آزادی کو کسی قیمت پر نہیں گنوائیں گے اور اسی لئے 30مئی 1866کو دیوبند میں چھتہ والی مسجد میں انار کے درخت کے نیچے ایک طالب علم اور ایک استاد سے اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی جسے ہم ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے نام سے جانتے ہیں۔ اس سعی محمود کا آغاز جن دو افراد سے ہو ا وہ دونوں ہی محمود تھے۔ استاد ملا محمود اور شاگرد محمود حسن( جو بعد میں شیخ الہند مولانا محمود حسن کے نام سے مشہور ہوئے)یہ اپنی تعلیمی آزادی اور خود مختاری کو انگریزیں کے اثر سے آزاد رکھنے کاپہلا کامیاب عملی نمونہ تھا ۔لیکن اب جب کہ صورت حال بدل گئی ہے اور آزاد ہندوستان میں جہاں مسلمان اب نہ حاکم ہیں نہ محکوم بلکہ اقتدار میں برابر کے شریک ہیں اور اس ملک کی تعمیر وترقی میں ان کی توانائیاں اور وسائل بھی پوری طرح صرف ہوتے ہیں۔ اس لئے آزادی کے بعد سے پہلے ہی سے ریاستی سطحوں پر کئی مدرسہ بورڈ قائم ہیں اور یقیناً ان کی کارکردگی اور نتائج توقعات کے مطابق نہیں ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی کمی ہے جن کے ہاتھ میں ان کا نظم نسق ہے۔ اس میں خود ہماری ملی سطح پر بے حسی ،عمدہ دلچسپی او رلا پرواہی کو بھ دخل ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مریضوں کا علاج ہوتا ہے، پوسٹ مارٹم نہیں ۔ حکومت ہندنے مرکزی مدرسہ بورڈ کا جو تخیل اور تجویز پیش کی ہے اس کو لے کر بعض اہل مدارس جن میں ہمارے کچھ محترم اکابرین بھی شامل ہیں، شدومد سے مخالفت کررہے ہیں ۔ہمیں ان کی نیک نیتی پرکوئی شبہ نہیں ۔ لیکن خوگرمدح کو اگر تھوڑے سے گلہ کی اجازت دی جائے تو ان کی خدمت میں یہ ضرور عرض کرناچاہیں گے کہ سرکاری وسائل سےہمارے مکاتیب ومدارس ،ان سے وابستہ اساتذہ ،غیر تدریسی عملہ اگر چا ہیں تو انہیں کیوں نہ بہرہ مند ہونے دیا جائے۔ مرکزی مدرسہ بورڈ ایکٹ میں آپ کو یقیناً یہ حق اور اختیار ہوناچاہئے کہ آپ مجوزہ مرکزی مدرسہ بورڈ سے الحاق کریں یا نہ کریں اور صرف یہی نہیں بلکہ اگر الحاق شدہ ادارے اپنے تجربہ کی بنیاد پر بعد میں مرکزی مدرسہ بورڈ سے ترک تعلق بھی کرنا چاہیں تو اس کی انہیں بھرپور اجازت ہونی چاہئے ۔ اس ایکٹ میں یہ بات بھی پوری وضاحت اور صراحت کے ساتھ شامل ہونی چاہئے کہ مکاتیب ومدارس کی خود مختاری ،ان کا انتظامی ڈھانچہ انہی لوگوں کے ہاتھ میں رہے گا جو ان کو قائم کرے۔ مزید برآں نصاب تعلیم میں علوم اسلامیہ کا تناسب ،معیار، مقدار ،ترجیحات او رانتخابات کا مکمل حق بھی ذمہ داران مکاتیب ومدارس ہی کو حاصل ہوگا۔ جہاں تک علوم جدیدہ کی نصاب میں شمولیت کا سوال ہے تو مکاتیب ومدارس کے طلبہ وطالبات کی ذہنی ساخت ، علمی ضروریات اور نظام الاوقات کو سامنے رکھ کر ماہرین تعلیم سے اس کو تیار کرایا جائے۔یہ بات بھی اس ایکٹ میں صاف ہوجانی چاہئے کہ سرکار مرکزی مدرسہ بورڈ سے ملحقہ مکاتیب ومدارس سے صرف اتنے ہی پیسوں کا حساب مانگیں گے جتنا کہ وہ (سرکار) ان کو بطور گرانٹ دے گی۔

http://www.newageislam.com/یہ-وقت-قدیم-اور-جدید-کی-بحث-میں-الجھنے-کا-نہیں/urdu-section/d/2029