Showing posts with label جنگ. Show all posts
Showing posts with label جنگ. Show all posts

Sunday, July 1, 2012

سانحۂ کربلا اور ہندوستان راج پتھ پر جلوس محرم , Urdu Section,

Urdu Section
سانحۂ کربلا اور ہندوستان راج پتھ پر جلوس محرم
علی عابدی
جس کے معنی کچھ اس طرح ہیں کہ حسین شاہ ہے بادشاہ بھی ہے حسین دین بھی ہے دین کی پناہ بھی ہے۔ سردے دیاپر یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ حسین لاالہ کی بنا ہے ۔حضرت امام حسین رسول ﷺ کے نواسے اور رسول ﷺ کے چچا ابوطالب کے پوتے ہیں۔ جب رسول ﷺ کے بچپن میں ان کے والدین کا انتقال ہوگیا تو ابوطالب نے رسول کی پرورش کی۔ رسول اپنے نواسوں سے اس قدر پیار کرتے تھے کہ انہوں نے بچپن سے بار بار ان نواسوں کو اپنی امت کو پہنچوایا۔بارہا اصحاب سے مخاطب ہوکر کہا کہ حسین منی انامن الحسین یعنی حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ جس نے حسین کو خوش کیا اس نے خدا کو خوش کیا جس نے حسین کو ناراض کیا اس نے اللہ کو ناراض کیا۔22رجب 60ہجری میں یزید کی تاج پوشی ہوئی ۔یزید نے تخت پر بیٹھے ہی اپنے سفیر سے مدینہ کے گورنر ولید ابن عتبہ کو کہلوایا کہ حسین کو کہو کہ میری بیعت کرے یعنی ہم جو بھی کررہے ہیں اس پر رضا مندرہیں ورنہ ان کا سرکاٹ لو۔ امام حسین نے بیعت سے انکار کردیا اور اپنے ساتھیوں سے ساتھ مکہ چلے گئے تاکہ وہاں سلامتی سے رہ سکیں ۔ حج کے ایک دن پہلے تک مکہ میں رہے ۔ دیکھا کہ وہاں بھی یزید کے آدمی ان کا خون بہا کر مکہ کی زمین کو رنگ دیں گے تو کوفے کے لئے کوچ کیا۔ اس وقت عرب کے بہادر قبیلے کا سردار عدی بن حاتم ان کے پاس آیا اورکہا آپ میرے ساتھ چلیں آپ کو کوئی مار نہیں سکے گا۔ امام حسین نے کہا مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں مجھے نانا کادین بچانا ہے۔ راستے میں اپنے بھائی مسلم کی کوفے میں شہادت کی خبر ملی ۔آگے برھے تو حرنے ایک ہزار کی فوج کے ساتھ ان کا راستہ روکا۔ حرکا لشکر پیاسا تھا آپ نے اس کے لشکر کو ہی نہیں اس کے گھوڑوں کو بھی پانی پلایا پھر بھی حر انہیں زبردستی کربلا میں لے آیا امام حسین کی جنگ تخت وتاج کے لئے نہیں تھی بلکہ وہ نانا کے دین اور انسانیت کے اصولوں کو بچانے کےلئے آئے تھے۔ امام حسین مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کوچ کر کے کربلا آئے۔ بعد میں نہر فرات سے اپنے خیمے ہٹا کر دنیا کو بتانا چاہا کہ میں جنگ نہیں کرنا چاہتا ۔ اگر امام حسین چاہتے تو غیبی طاقت سے یزید کو ختم کرسکتے تھے لیکن امام حسین کو تو یزید ی سوچ کو ختم کرنا تھا۔ رسول ﷺ کی وفات کے پچاس سال کے اندر دوبارہ سب کچھ وہی ہونے لگا تھا جیسے رسولﷺکے پہلے ہوتا تھا۔ شراب ،جوا، زنا ہی نہیں بلکہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹے کو باپ کی بیویتر کہ میں حاصل کرنے کا پورا حق تھا۔ یزید کوڈ ر تھا کہ امام حسین کے رہتے ہوئے رسولﷺ کے ذریعہ کئے ہوئے reformation کو ختم نہ کرسکے گا۔ اس لئے وہ بیعت چاہتا تھا۔ امام حسین نے کہا کہ ظالم اور جابر کے ماتحت زندگی گزارنا صرف باعث ذلت ورسوائی ہے اور اس کے ہاتھوں مارے جانا سچی شہادت ہے۔ امام حسین نے رہتی دنیا کو سبق سکھایا کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔

Friday, June 29, 2012

روہیلہ پٹھانوں کی تاریخ کا عظیم ہیرو نواب خا ن بہادر خاں, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
روہیلہ پٹھانوں کی تاریخ کا عظیم ہیرو نواب خا ن بہادر خاں

فاروق ارگلی

18ویں صدی میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کی بہت بڑی فوجی اور سیاسی طاقت بن چکی تھی پورے ملک میں انگریزوں یا ان کے حلیف حکمرانوں کی عملداری قائم ہوچکی تھی۔ عظیم مغلیہ سلطنت کی راجدھانی دہلی کے بادشاہ پر بالادستی حاصل کرلینے کے بعد تو پورا ہندوستان ان کا مفتوحہ ملک اور برطانیہ کی نو آبادی میں تبدیل ہوچکا تھا۔ اس دور میں اگر انگریزوں نےاپنی نسلی برتری اورمذہبی تعصب کے زیر اثر ہندوستانیوں کو غلام بنا کر ان کی مذہبی اور تہذیبی شناخت مٹا کر پورے بڑ صغیر کو عیسائی مملکت بنانے کی راہ نہ اپنائی ہوتی تو شاید 1857کا انقلاب رونما نہ ہوتا لیکن اس ملک پر تسلط جمانے کے ساتھ ساتھ انہو ں نے ہندوستانیوں کو زیادہ سے زیادہ کچل کر اپنے اقتدار کی بنیادیں مضبوط کرنے کی کوشش کی۔انگریزوں نے یہ ملک مسلمانوں سے چھینا تھا، یہاں کے باشندوں کی عیسائی بنالینے کی زبردست خواہش کے پیچھے اسلام اور مسلمانوں سے ازلی دشمنی کا وہ احساس ہی تھا جو صلیبی جنگو ں میں عبرت شکستوں کی صورت میں مسیحی دنیا کو ملا تھا ۔ انہوں نے طاقت حاصل کرلینے کے بعد پہلا اقدام یہی کیا تھا کہ ہندوستان میں عیسائیت کو فروغ دے کر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہاں کی تمام اقوام کو ہمیشہ کے لیے اپنی مذہبی وحدت کے دائرے میں لے آیا جائے تاکہ آنے والی صدیوں تک کے لئے ان کا اقتدار مستحکم ہوجائے ۔ انگریزوں سے ہندوستانیوں کو سب سے زیادہ نفرت اسی وجہ سے ہوئی کہ وہ ان کا مذہبی اور تہذیبی نشخص بھی چھین لینا چاہتے تھے ۔ فرنگی استعمال سےنفرت کی جو آگ اندر ہی اندر سلگ رہی تھی۔ مئی 1857میں میرٹھ چھاؤنی سے کمپنی کی فوج کے ہندوستانی سپاہیوں کی بغاوت کے بعد اس طرح بھڑک اٹھی کہ اس کے شعلوں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ لے لیا اور انگریز قوم کے تسلط سے آزادی کا جذبہ خوفناک انقلابی جنگ کی صورت اختیار کرگیا۔ دہلی مجاہدین آزادی کا قبضہ ہوجانے اور بہادر شاہ ظفر کے اقتدار اسنبھال لینے کی خبرو ں نے بریلی چھاؤنی کے فوجیوں میں بھی جوش پیدا کردیا اور کمپنی کے توپ خانے کے ایک جواں ہمت صوبہ دار بخت خاں نے بغاوت کا پرچم بلند کردیا۔ بخت خاں کے ساتھ مداد علی خاں، محمد شفیع رسالدار ، جنرل نیاز محمد خاں اور ظفر یار خاں جیسے پر جوش مجاہدین نے مل کر انگریزوں کے خلاف منظّم لڑائی کا آغاز کردیا۔ شہر میں بغاوت کا چرچا ہوا تو پورا شہر مجاہدین کی حمایت میں کھڑا نظر آیا ۔ انگریز افسران نے جب یہ رنگ دیکھا تو پہلے انہوں نے اپنے بال بچوں کو نینی تال روانہ کی، اور اس کے بعد اس نازک صورت حال سے نمٹنے کی تدبیریں کرنے لگے ۔ انگریزوں کو جلدی میں اندازہ ہوگیا کہ اب اس بغاوت کے سیلاب کو روکنا ناممکن ہے، اس لیے اس وقت کمشنر روہیل کھنڈ مسٹر الیکز ینڈر نے نواب خان بہادر خاں سےملاقات کی اور ان سے کہا:

http://www.newageislam.com/urdu-section/روہیلہ-پٹھانوں-کی-تاریخ-کا-عظیم-ہیرو-نواب-خا-ن-بہادر-خاں/d/2117