Tuesday, February 11, 2014


Destruction of heritage in Saudi Arabia and Islamic Teachings- Part 2 اپنے مذہبی آثار کا تحفظ کرنا مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ حصہ 2

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
7 فروری ، 2014
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور سیرت مبارکہ میں کئی آثار کا ذکر ملتا ہے، ا ن میں سے ایک استوانۂ حنانہ کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل  یہ ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نصب کئے ہوئے کھجور کے تنے سے پشت لگاکر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، یہ تنا چھپرّ سے بنی ہوئی مسجد میں ستون کا کام دیتا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت  سے بعض صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے منبر بنایا، جب منبر رکھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خطبہ دینے کے لئے آگے بڑھے تو ایک معجزہ ظاہر ہوا کہ درخت  کے اس تنے سے پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آواز آنے لگی ، جیسے کوئی گرفتار محبت سے اپنے محبوب  کے فراق پر روتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یہ آواز سن کر منبر سے اتر آئے اور اسے تنے سے ہاتھ پھیرا ، یہاں تک کہ وہ پرُ سکون ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر واپس آگئے ۔ اس لئے معمول مبارک تھا کہ جب نماز ادا فرماتے تو اسی تنے کے سامنے نماز ادا فرماتے ۔ پھر جب تعمیر نو کے لئے مسجد کا ڈھانچہ شہید کیا گیا اور اسے  بدلا گیا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اسے حاصل کرلیا، اور تبر کاً اس کو اپنے گھر رکھا، یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہوگیا رفتہ رفتہ زمین اس کو کھا گئی ۔( ابن ماجہ: حدیث نمبر:1414) ظاہر ہے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا درخت کے اس ڈھانچے  کو اپنے پاس رکھنا بطور تبرک تھا اور اسی حیثیت سے جب تک محفوظ  رہ سکا،  آپ رضی اللہ عنہ  نے اس کی  حفاظت فرمائی

No comments:

Post a Comment