ایم عارف حسین
بھارتیہ جنتا پارٹی میں محمد علی جناح پر طویل بحث اور اس بحث کے نتیجے میں ایک اہم رہنما جسونت سنگھ کے اخراج کولیکر زبردست بھونچال کے بعد اب مدھیہ پردیش کے ایک ممبر اسمبلی نے شاعر مشرق علامہ اقبال کو نشانہ بناتے ہوئے مدھیہ پردیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقبال سمان کو منسوخ کردے ۔ قابل ذکر ہے کہ اقبال سمان مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے دیا جاتا ہے اور اس وقت مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی ہی حکومت ہے ۔گرجا شنکر شرما نامی اس ممبر اسمبلی الزام عائد کیا ہے کہ دوقومی نظریہ کا تصور سب سے پہلے اقبال نے پیش کیا تھا۔ صوبہ کے ہوشنک آباد اسمبلی حلقہ سے منتخب رکن اسمبلی نے حکومت سےمطالبہ کیا کہ ہر سال دیا جانے والا اقبا سمان ایوارڈ منسو خ کریا جائے۔ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ پیش کیا تھا اور وہی جناح کے ذہن میں تقسیم کا بیج بونے کے لئے ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اقبال جناح کے درحانی رہنما تھے اور انہوں نے پاکستان کی تشکیل میں جناح سے زیادہ کردار ادا کیا تھا۔ گریجا شنکر شرمانے صوبہ کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور بی جے پی کی قومی قیادت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے صوبہ کے اقبال سمان ایوارڈ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کاے کہ یہ ایوارڈ اقبال کے بجائے کسی اور اردو اسکالر کے نام سے دیا جائے۔
واضح رہے کہ صو بے کے محکمہ ثقافت کی جانب سے علامہ اقبال کی یاد میں ہر سال ایک اردو ادیب یاشاعر کو اقبال سمان ایوارڈ عطا کیا جاتا ہے ملک کے یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقع پر اقبال کے قومی گیت ‘‘سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا’’ کی گونج ہر طرف سنائی دیتی ہے ۔حال ہی میں جناح کی ستائش کرنے پر بی جے پی نے سینئر قائد جسونت سنگھ کو پارٹی سے خارج کردیا تھا ۔ اسی دوران مدھیہ پردیش کانگریس پارٹی کے ترجمان کے مشرا نے بی جے پی رہنما کے بیان کو تنگ نظری قرار دیا اور پارٹی سے ان کے اخراج کا مطالبہ کیا۔ جماعت انور صفی اور کل ہند مسلم تہوار کمیٹی کے صدر شاہ میر خرم نے بھی بی جے پی رہنما کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ علامہ اقبال اردوکے عظیم شاعر تھے اور مہاتما گاندھی کی یاد میں ایوارڈ کا قیام صوبے کے لیے فخر کا باعث ہے۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/علامہ-اقبال’-فرقہ-پرستوں-کے-نشانہ-پر/d/2011
No comments:
Post a Comment