Thursday, June 28, 2012

کشمیر اور کشمیریت, Urdu Section, NewAgeIslam.com

کشمیر اور کشمیریت

اداریہ روزنامہ ہمارا سماج ،نئی دہلی

جموں وکشمیر کے پاسپورٹ حاملین کو چین کی طرف سے علیحدہ ویزہ جاری کرنے کاتنازع ابھی سرد بھی نہیں ہوا تھا کہ چین ہندوستان کو مشتعل کرنے کی دوسری حرکت کرکے یہ واضح کردیا ہے کہ اس کی نیت میں کھوٹ ہے۔ چین نے تبت کی مفاہمت کےلئے آنے والے نامہ نگاروں کو ایسے ہینڈ پیڈدے کر جس میں جموں وکشمیر کو علیحدہ ملک کی شکل میں دکھا یا گیا ہے،ہندوستان کو اشارے کی زبان میں بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے۔ گرچہ چین کی طرف سے اٹھایا جانے والا یہ قدم ہندوستان کے خلاف پہلی قدم نہیں ہے جس پر حیرت کی نگاہ ڈالی جائے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ یہ کوئی ایسی معمولی حرکت ہے جس کو یونہی نظر انداز کردیا جائے۔

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چین نے کشمیر کے توسط سے ہی ہندوستان کے خلاف محاذ آرائی کا یہ آغاز کیوں کیا؟ ظاہرسی بات ہے چین اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ ہندوستان کا یہی وہ خط ہے جہاں کے شہری انتہائی پریشان ہیں، جس کی وجہ سے یہ بآسانی یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہمدرد جتا کرکے ہندوستان کے خلاف اکسانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ جس کے لئے اس نے پاک مقبوضہ کشمیر میں ترقیاتی کام کے نام پر فنڈ دے کر اس کا آغاز کیا او ر اب یہ دوسری حرکت ہے۔ دوسری طرف کشمیر کا حال یہ ہوچکا ہے کہ اب یہاں کی سرزمین ایک ایسے مردہ جسم کی مانند ہوچکی ہے جس کی روح نکل چکی ہے ۔ اس کے لئے کشمیر کو جن خصوصیات کی بنیاد پر جنت نشان کا لقب دیا گیا تھا وہ ساری خصوصیات وہاں مفقود ہوچکی ہیں۔ کشمیر کے لہلہاتے باغات جہاں کبھی سرسبز شادابی کے ساتھ ساتھ انواع و اقسام کے پھل ہوتے تھے اب وہاں بارود کے ڈھیر نظر آتے ہیں ۔ کشمیر کی وہ پہاڑیاں جہاں لوگ ذہن ودماغ کو سکون پہنچانے کے لئے چھٹیوں میں جایا کرتے تھے اب ان پہاڑیوں پر دہشت گردوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ وہ جھیل جس کا پانی پی کر قلب کو طمانیت ملتی تھی اب اس کا پانی زہر آلود ہوچکا ہے۔ کشمیر کی وہ وادی جہاں کبھی زعفران ،سیب ، انار، کاجو، اخروٹ وغیرہ کی کھیتی ہوا کرتی تھی وہ لالہ زار وادی اب بم دھماکوں اور بارود کی وجہ سے بنجر ہوچکی ہے۔ یعنی وہ کشمیر جہاں فطرت کے خو بصو رت نظارے دیکھنے کو ملتے تھے وہاں گولہ بارود ، بم دھماکے دیکھنے کوملتے ہیں اور کشمیر کے وہ شہری جو انتہائی بااخلاق ،ملنسار اور روحانیت کی مجسم تصویر ہوا کرتے تھے اب وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔


No comments:

Post a Comment