ثانیاً : کوئی قطعی دلیل اس بات کی موجودگی نہیں کہ برادر شوہر کو موت کہنے سے یہ ہی مراد ہے کہ یہ امر موت کی طرح مہلک ہے بلکہ ممکن ہے کہ جناب پیغمبر خدا کی مراد یہ ہوکہ برادر شوہر کے روبرو ہونے سے کب اجتناب ہوسکتا ہے اس کا تو ضرور آمنا سامنا ہوگا جس طرح موت سے آدمی نہیں بچ سکتا اسی طرح عورت شوہر کے بھائی کے روبرو ہونےسے نہیں بچ سکتی۔ یہ معنی کچھ ہمارے گڑھے ہوئے نہیں ہیں بلکہ بڑے بڑے جلیل القدر علما کا یہی مذہب ہے جیسا کہ صاحب فتح الباری نے تحریر کیا ہے اور خاص شیخ تقی الدین صاحب شرح العمدہ کا نام بھی لکھا ہے۔
ثالثاً : کچھ شک نہیں کہ یہ ہی معنی صحیح ہوں کیا وجہ کہ حقیقت میں حمو عربی زبان میں صرف دیور یا جیٹھ کو نہیں کہتے بلکہ شوہر کے کل رشتہ داران از قسم ذکور کو کہتے ہیں ۔ جن میں شوہر کے باپ یا دادا بھی داخل ہیں۔ حالانکہ یہ رشتہ دار محارم میں سے ہیں جن کے روبرو عورت کا آنا جانا ہے۔ پس اگر الفاظ احادیث کے وہ ہی معنی لئے جاویں جو عوام میں مشہور ہیں تو عورت کا ان محارم کے روبرو ہونا بھی ناجائز ٹھہر ے گا جو صریحاً غلط ہے۔ خود جناب پیغمبر خدا کا طریق عمل ہمارے لئے اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ اس حدیث کے الفاظ خواہ کچھ ہوں مگر اس کے رو سے عورت کو اپنے شوہر کے بھائی کے روبرو ہونے کی ممانعت ہر گز ثابت نہیں ہوتی ۔ جناب رسول خدا کا کوئی حقیقی بھائی نہ تھا کہ ان کی کوئی بھاؤج ہوتی لیکن ان کے کنبہ کے حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رشتہ کے بھائی رکھتے تھے چنانچہ زبیر ابن عوام آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہوتےتھے اور آپ زبیر کے ماموں زاد بھائی ہونے کی وجہ سے زبیر کی بیوی کے جیٹھ ہوتے تھے ۔زبیر کی بیوی اسما بنت ابی بکر تھیں جو عائشہ کی بہن ہونے کے سبب بھاؤج کے علاوہ آپ کی سالی بھی ہوتی تھیں۔ پس اسما بنت ابی بکر کے دونوں رشتے یعنی بھاؤج اور سالی کے ایسے رشتے تھے جو ہمارے آج کل کے شرفا کے دستور اور رواجی شریعت کے بموجب مقتضی سخت پردہ کے ہیں۔ اب ہم کو ایسے حالات کی جستجو ہے جن سے یہ صاف ظاہر ہوجائے کہ اسما رسول خدا کے روبرو ہوتی تھیں یا نہیں۔بڑی محنت کے بعد ہم بخاری میں ایک حدیث پاتے ہیں جس کی روایت کرنے والی خوش قسمتی سے خود اسما ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میرا نکاح زبیر سے ہوا ۔ اس کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا اور ایک اونٹ ۔اس کے سوا اور کچھ مال متاع نہ تھا میں ہی اس کے گھوڑے کو چرالا یا کرتی تھی۔ اور زبیر کی زمین سے کھجور کی گھٹلیاں اپنےسر پر اٹھالاتی تھی۔ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ میں چلی آرہی تھی اور گٹھلیوں کا بوجھ میرے سر پر تھا کہ راہ میں رسول اللہ مل گئے ۔ ان کے ہمراہ چند احباب بھی تھے ۔ انہوں نے مجھے بلایا ۔ اور وہ اپنا اونٹ بٹھانے لگے کہ میں ان کے پیچھے سوار ہوجاؤں مگر مجھے لوگوں کے ہمراہ یوں جانے میں شرم آئی مجھے زبیر کا بھی خیال آیا کیو نکہ اس کی غیرت کی کوئی حد و انتہا نہ تھی۔ رسول اللہ نے پہچان لیا کہ مجھے یوں ہمراہ سوار ہونے میں شرم آتی ہے۔ اس لئے وہ تشریف لے گئے۔ میں زبیر کے پاس آئی اور اس کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔(جاری)
http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-22/d/2149
No comments:
Post a Comment