October 16, 2009
ظفر آغا
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے اورآپ کے والدین نے 1947میں بٹوارے کے بعد پاکستان جانا گوارانہیں کیا۔ذرا سوچئے اگر ہمارے والدین غلطی سے پاکستان چلے گئے ہوتے تو آج ہمارا اور ہمارے بچوں کاکیا حال ہوتا؟ شاید ہم بھی دیوانے پاکستانی جہادیوں کی طرح ہاتھ میں ایک AK-47لٹکا ئے اسلامی مملکت کی جستجو میں دیوانہ وار معصوموں کا خون بہا رہے ہوتے ۔ اگر ہم اس دیوانگی نے خود بچ بھی جاتے تو بہت ممکن تھا کہ ہمارے بچے طالبانیوں کے بہکاوے میں خود کش بمبار بن کر خدا نخواستہ خود بھی جان سے گئے ہوتے اور نہ جانے کتنے معصوموں کا خون بہایا ہوتا ۔
اللہ ہمارے اس مملکت خداداد پاکستان سے کہ جہاں اسلام نعوذ با اللہ ایک تماشہ بن گیا ہے۔ آج ایک اسلامی حکومت، کے نام پر پاکستان میں جو دیوانگی ہورہی ہے ،کیا کوئی ذی ہوش شخص کسی بھی مذہب اور عقیدے سے اس کو تعبیر کرسکتا ہے؟ دنیا کا کوئی بھی مذہب کیا خون خرابے کی اجازت دے سکتا ہے؟ اور وہ بھی اسلام ،جس کا رب اللہ رب العالمین ہو، اس اسلام کے نام پر مسلمان خود مسلمانوں کا خون بہائے اور پھر یہ کہے کہ یہ تو جہاد ہے اور ہم خدمت اسلام بجا لارہے ہیں ۔ کیا کوئی ذی ہوش اس کو اسلام کہے گا؟اگر یہی اسلام نعوذ بااللہ ہوتا تو رسولؐ مکہ کی زندگی میں سوڈیڑھ سوسر پھرو ں کے ہاتھوں میں تلوار تھما دیتے اور کہتے جاؤ سوتے ہوئے کافروں کے گھر میں گھس کران کا قتل کردو۔ بس پھر مکہ میں اتنی دہشت پھیل جائے گی کہ لوگ خود بخو د اسلام قبول کرلیں گے، لیکن محمد مصطفیٰؐ پیام رحمت پھیلارہے تھے ، پیغام زحمت لے کر نہیں آئے تھے، لیکن آج کے پاکستان میں جہادی جس اسلام پر گامزن ہیں، وہ پیغام زحمت ہے ،اللہ کا پیام رحمت تو قطعاً نہیں ہے۔
آخر یہ مملکت خداداد پاکستان کو ہوا کیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اب پاکستان پر کس کی حکومت ہے؟ کیا آج پاکستان میں ابھی فوج کا سکہ چل رہا ہے؟اگر فوج اپنے بیرکوں میں پہنچ چکی ہے تو پاکستان میں موجود جمہوری نظام میں صحیح معنوں میں ملک کے نظام پر قادر ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھی چند برسوں تک ساری دنیا یہ سمجھتی تھی کہ حاکم کہنے کو کوئی بھی ہو، سکہ پاکستان میں فوج کا ہی چلتا ہے ،حقیقت بھی یہی تھی۔ پاکستان کی قلیل 62۔60برس کی عمر میں کوئی 45۔40برس تو فوج ہی پاکستانی نظام پر قابض رہی، لیکن ابھی دوہفتے قبل اسی پاکستانی فوج کے ہیڈ کواٹر پر راولپنڈی میں جہادیوں کا قبضہ ہوگیا تھا او رکوئی 24گھنٹے سے زیادہ یہ نام نہاد جہادی پاکستان کے ہیڈ کواٹر پر نہ صرف قابض رہے،بلکہ پاکستانی فوج سے لڑتے بھی رہے۔آخر کار نام نہاد ی مارے گئے ،لیکن ایک بار ان نام نہاد جہادیوں نے دنیا کو بتادیا کہ اب وہ پاکستانی فوج کو خود اس کی ماند میں بھی گھس کر چیلنج دے سکتے ہیں ، یقیناً پاکستانی نظام پر اب فوج کی پکڑ بھی ڈھیلی ہوچکی ہے۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/آخر-پاکستان-میں-یہ-جنون-کیوں؟/d/2012
No comments:
Post a Comment