فتح محمد ندوی
مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابولحسن علی ندوی ؒ مغربی تہذیب کے بڑھتے ہوئے اس سیلاب اور اس کے خطرات او ر خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘‘اسی طرح اگر مغربی تہذیب اور اس کے وسائل وثمرات سے استفادہ باقاعدہ سوچی سمجھی اسیمے بصیرت وتدبر اور تیر وشر میں تمیز کی بنیاد پر ہوا تو یہ تہذیب ملک کے رہنما ؤں اور ارباب عقد اور علما دین کی مرضی اور خواہش کے خلاف اس ملک یا سوسائٹی پر جبراً قابض ہوجائے گی ۔عوام گرمجوشی کے ساتھ اس کا خیر مقدم کرینگے ،ادبا اہل فکر اس کے لئے راستہ صاف کریں گے، اور خیر وثر اور مفید ومفسر میں تمیز کئے بغیر اس ملک کے باشندے فاقہ زدوں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑیں گے ۔ساری اخلاقی ودینی قدریں ا سکے ساتھ فنا ہوجائیں گی۔ ملک کے رہنما اور ذمہ دار سیاست داں اس صورت حال کے سامنے بے دست وپا اور مفلوج نظر آئیں گے اور ا ن کے ہاتھ سے نظام قیادت ہمیشہ کے لئے نکل چکی ہوگی۔’’
اس اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک کے علمائے دین اور اربان نظر وفکر نے تہذیب جدید کے اس چیلنج اور خطرے سے اپنی قوم کو پہلے ہی باخبر کردیا تھا، چونکہ وہ اس کی پیچیدگیوں اور معاشرے پر اس کے اثرات ومضمرات کو اپنے وسیع تجربات سے پہلے ہی دیکھ چکے تھے،پھر ان علموں کی صورت حال جہاں یہ تہذیب فاتحانہ داخل ہوئی ان کے سامنے تھی، اس سے انہوں نے ہمیشہ اس کے امنڈتے ہوئے سیلاب سے اپنے معاشرے اور سوسائٹی کو بچانے کیلئے نہ صرف حکومت کو خبردار کیا بلکہ خود بھی اس کے سدباب کیلئے جدوجہد کی کیونکہ ان کو اس بات کا خوف تھا کہ اگر یہ تہذیب دورے ملکوں کی طرح ہمارے ملک میں بھی فاتحانہ داخل ہوگئی ،جیسا کہ زمانہ کا رجحان اس کو قبول کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے تو پھر ہمارے معاشرے کی بھی تمام اخلاقی قدریں فناہوں جائیں گی ،اور معاشرے میں ایسا انتشار او ربحران پیدا ہوجائے گا جس کا طاقت اور قوت سے مقابلہ ناممکن ہوجائے گا۔
http://newageislam.com/urdu-section/ہم-جنس-پرستی-اور-مذاہب-عالم-کا-اخلاقی-نظام-/d/1542
No comments:
Post a Comment