پربھاش جوشی
بابری مسجد کے انہدام کی جانچ کرنے والے لبراہن کمیشن نے کیا نتائج نکالے ہیں اور کیا سفارشات کی ہیں اس کا پوراعلم کسی کو نہیں ہے لیکن اس کے بارے میں جو پتنگ بازی ہورہی ہے اس سے صاف ہوچلا ہے کہ کس کا کیا رویہ رہنے والا ہے۔ جس کی صدارت میں اس کے سوئم سیوکوں نے کارسیوک بن کر بابری مسجد گرائی وہ تہذیبی اور سماجی تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کہہ رہا ہے کہ مسجدلوگوں کی ناراضگی کے سبب گری لوگ ناراض اس لئے تھے کہ مرکزی سرکار نے ڈھلمل رویہ اپنا رکھا تھا اس کی غیر یقینی کے سبب جو حالات بنے ان کے سبب مسجد گری ، اس کے ڈھانے کیلئے کسی لیڈر یا تنظیم کو ذمہ دار قرار دینا دلیل ناقص اور سیاسی سازش ہوگی۔
آر ایس ایس بولنے سے زیادہ دیکھنے اور غلط فہمی پھیلانے میں یقین رکھتا ہے،لیکن اس معاملے میں ہو لبراہن کمیشن کی رپورٹ کو دیکھنے تک کیلئے نہیں رکا۔وہ بہت مشتاق ہے کہ رپورٹ کے عوامی ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں اپنی رائے اور اپنے نتائج لوگوں کو بتادے ۔ کانگریس ترجمان ابھیشیک منوسنگھوی کاکہنا ہے کہ یہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے ،اسے کہنے کی ضرورت نہیں تھی ۔کیونکہ بابری مسجد ڈھانا ٹی وی کے ذریعہ ساری دنیا نے دکھا ہے۔ آزاد ہندوستان کے اس دوسرے سب سے المناک حادثہ کا کئی بار اور کئی طرح سے پوری تفصیل کے ساتھ تجزیہ ہوچکا ہے۔اور اس تاریخی انہدامی کارروائی کا شاید ہی ایسا کوئی پہلو ہے جو ابھی تک انجانا اور ان دیکھا ہو ،سب جانتے ہیں کہ بابری مسجد سنگھ نے اپنے کنبے والوں سے گروائی ،لیکن اس تہذیبی تنظیم میں اتنا بھی اخلاق ،ہمت اور ایمانداری نہیں ہے کہ اس انہدامی کی سماجی ’تہذیبی اور سیاسی ذمہ داری لے سکیں۔
اس لئے بھلے ہی سولہ سال چھ مہینے بعد آئی ہو، لبراہن کمیشن کی رپورٹ کی اہمیت ہے وہ انصافی طریقے سے اس انہدام کی جانچ کر کے اس کی ذمہ داری سے بھاگنا چاہتے ہیں وہ سبھی انہدام کیلئے مرکز یا ہمارے انصافی نظام کو الزام دے رہے ہیں، سنگھ نے تو اس وقت کی کانگریس سرکار کے ڈھلمل اور غیر یقینی رویئے کو ملزم بنادیا ہے اور رام جنم بھومی تحریک کی قیادت کرنے والے لال کرشن اڈوانی کا کہنا ہے کہ بھومی حصول کے معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اگر دیر نہیں لگائی ہوتی تو ۶دسمبر کا انہدام نہیں ہوتا ۔ اب آج آپ میں سے کتنے لوگوں کو یاد ہوگا کہ یہ حصول کا معاملہ ہے۔؟
http://newageislam.com/urdu-section/مجرموں-کو-سزا-دیجئے-/d/1543
No comments:
Post a Comment