Tuesday, June 26, 2012

ہمیں کیا ہوگیا ہے, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
ہمیں کیا ہوگیا ہے
عرفان صدیقی
ہم امریکہ کے دست نگر ہیں لیکن کیا دنیا کے لاتعداد ممالک امیر ملکوں اور اداروں کے مقروض نہیں ؟کیا ہم 1998میں بھوک کے ہاتھوں فاقوں مرنے لگے تھے جب نہ صرف امریکہ بلکہ پورے یورپ نے ہمارا مقاطعہ کردیا تھا؟ کیا ہمارے اندر اتنی سکت بھی نہیں کہ گدا گری ترک کریں،اپنے اللوں تللوں قابوں پائیں اور تذلیل کی زندگی گزارنے سے انکار کردیں۔ کیا اس رزق سے موت اچھی نہیں جس نے ہمیں ایک بے حمیت ،بے آبرواور بے حس گروہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ منگل کے روز جنوبی وزیر ستان میں امریکیوں نے کئی ڈرون حملے کئے ۔ تحصیل لدھا کے ایک گاؤں پر ان حملوں میں سو کے لگ بھگ عام شہریوں جاں بحق ہوگئے ۔ زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔ پہلے حملے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جس میں چھ افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے ۔ مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ شہید ہونے والے تمام افراد مقامی لوگ اور عام شہری تھے ۔ لوگوں نے ان کےلئے پھٹے اجزا جمع کئے ۔ سرشام ان کی تدفین سے قبل نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی کہ تین امریکی ڈرون ایک بار پھر نمودار ہوئے ۔ نماز جنازہ کے اجتماع پر میزائل برسائے ،جس سے شہر کے لگ بھگ افراد شہید ہوگئے ۔تیسرا حملہ لوگوں کے ایک اکٹھ پر ہوا جسے ‘‘جنگجوؤں کے اجلاس ’’ کا نام دیا گیا۔ تینوں حملوں میں ایک سو افراد کے چیتھڑے اڑدیئے گئے۔ پہلی دفعہ امریکیوں نے نماز جنازہ پڑھنے والوں کو نشانہ بنایا اور بیسیوں افراد کو خون میں نہلا دیا۔ جنازہ بھی ایک نماز ہے جو ایک امام کی اقتدا میں ادا کی جاتی ہے۔ یہ اہل اسلام کا دینی فریضہ ہے۔ نماز جنازہ میں شریک لوگوں پر میزائل برسانا پرانے درجے کی درنگی اور شقاوت ہے۔ اور اس درندگی اس شقادت پر چپ سادھ لینے والوں کے لئے میرے پاس کوئی لفظ نہیں ۔ صدر مملکت خاموش ،وزیر اعظم خاموش ،ایک سو ارکان کی کابینہ خاموش ،چارسو بیالیس ارکان کی پارلیمنٹ خاموش ،مسلح افواج کے قیادت خاموش ۔ چار سو ایک سناٹا ہے جسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ کسی سیاسی جماعت کا کوئی بیان نہیں آیا ، کسی قومی راہنما کی رگ حمیت نہیں پھڑکی ،کسی ٹیلی ویژن چینل نے نماز جنازہ پہ امریکی حملے کو ایشو نہیں بنایا، انسانی حقوق کی کسی تنظیم نے نوحہ نہیں کیا۔ اور سترہ کروڑ عوام رزق روزی کے کولہو میں جتے رہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/ہمیں-کیا-ہوگیا-ہے/d/1502

No comments:

Post a Comment