مولانا ندیم الواجدی
31مئی 2009کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہےکہ انگریزی اور ملیالم کی نامور ادیبہ اور مصنفہ کملا داس کا ،جنہوں نے 12دسمبر 1999میں پینسٹھ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا، انتقال ہوگیا، ان کا اسلامی نام کملا ثر یا تھا ،ان کا شمار ہندوستان کے صف اول کے ادبیوں اور شاعروں میں ہوتا تھا ،انہوں نے اپنی بے باگانہ تحریروں کے ذریعہ قارئین کو یہ احساس دلایا کہ انسانوں کے درمیان عدم مساوات انسانیت کے خلاف ہے ، وہ روایت شکن کے طور پر مشہور تھیں ،طویل تصنیفی زندگی گزارنے کے بعد انہوں نے اسلام کے دامن میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا، یہ فیصلہ انہوں نے طویل غور فکر کے بعد کیا تھا، کیرالہ کے شہر کو چین کی ایک باوقار تقریب میں قبول اسلام کے اعلان کے بعد انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویوں میں کہا تھا کہ میں نے کسی دباؤ کے تحت اسلام قبول نہیں کیا ہے ،یہ میرا آزادانہ ہے،میں اسلام قبول کرنے پر کسی کی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں کرتی، اسلام میرے لئے دنیا کی سب سے قیمتی متاع ہے اور یہ مجھے جان سے بڑھ کر عزیز ہے،15دسمبر1999کو ٹائمز آف انڈیا میں ان کا یک انٹرویو چھپا اس میں انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں برقعہ نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، کملا ثریا اپنے خاندان کے درمیان رہتی تھیں جو مسلمان نہیں ہوا تھا ،وہ آخر وقت تک ایمان پر قائم رہیں ،ان کی وصیت تھی کہ ان کوپلائم کی جامع مسجد کے قبرستان میں مسلمانوں کے درمیان دفن کیا جائے، ان کی و صیت کا احترام کیا گیا اور پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین اسی قبرستان میں عمل میں آئی۔ ہندوستان میں قبول اسلام کا یہ واقعہ اتفاقاً اخبارات میں آگیا، کیوں کہ اس کا تعلق ایک مشہور ادیبہ اور مصنفہ سے تھا، ایسا نہیں کہ ہندوستان میں قبول اسلام کے واقعات پیش نہیں آرہے ہیں، بلکہ ملکی حالات کے تناظر میں ان کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس کے باوجود جب کوئی واقعہ پڑھنے کو ملتا ہے تو دل طمانیت کے احساس سے لبریز ہوجاتا ہے ،خاص طور پر اس وقت جب اس واقعے کا تعلق کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد ہواور اسے اسلام کی کسی خاص تعلیم سے قبول اسلام کی تحریک ملی ہو۔خوشی کی بات یہ ہے کہ ساری دنیا میں اسلام ایک ایسے مذہب کے طور پر ابھررہا ہےجسے جاہلوں کے مقابلے میں پڑھے لکھے لوگ زیادہ قبول کررہے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور اس میں قلب ودماغ پر بیک وقت اثر انداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے، یورپ اور امریکہ میں خاص طور پر اسلام کی طرف لوگوں کے رجحان میں اضافہ محسوس کیا جارہا ہے ،لوگ اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں ، اس کے اچھائیوں کو محسوس کرنا چاہتے ہیں اور اس کی خوبیوں کو سمیٹنا چاہتے ہیں، حال ہی میں عرب نیوز نے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام عیسائیت کے بعد عقیدے کے حامل دوسرے بڑے گروپ کے طور پر ابھر رہا ہے ،ایک طرف جہاں برطانوی ذرائع ابلاغ اسلام کو غلط طور پر پیش کرنے میں مصروف ہیں وہیں دوسری طرف اسلام برطانیہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور ملک میں مسلمانوں کی آبادی بیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔2001کی مردم شماری میں برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد سولہ لاکھ درج کی گئی تھی، اس تعداد میں اضافہ برطانیہ میں اسلام کے تیزی سے ساتھ پھیلنے کا مظہر ہے ، آئندہ بیس برسوں میں یہ تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ جو گروپ اس وقت اقلیت میں ہے وہ اکثر یت میں آجائے گا، یہی حال یورپ کے باقی ملکوں میں ہے2003میں یورپی یونین میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تھی، یہ خیال بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر اسلام کی طرف لوگوں کے رجحان کا یہی عالم رہا تو یہ تعداد 2015تک تین کروڑ اور 2020تک لگ بھگ پانچ کرور ہوجائے گی، اسپین کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ وہاں ہر سال پانچ ہزار افراد اسلام قبول کررہے ہیں ،مغربی یورپ کے بعض ملکوں کے متعلق یہ خیال ہے کہ آنے والے چندبرسوں میں ان ملکوں کے بعض شہروں کے میئر مسلمان ہوسکتے ہیں ۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/محاسن-اسلام-قبول-اسلام-کے-تناظرمیں/d/1503
No comments:
Post a Comment