Thursday, June 28, 2012

حقیقت کا ادراک کیجئے, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
حقیقت کا ادراک کیجئے

پروفیسر یاسین شیخ

ایک اور تکلیف دہ ہفتہ ختم ہوا۔ عزت اور توقیر کے معیارات میں اتنی تبدیلی آچکی ہے کہ اب جسم وجاں کا رشتہ برقرار رہ جائے تو اسی پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ تیس سال پہلے جب ہمارے ملک میں بم دھماکےہونا شروع ہوئے تو ہم روس کا ہدف بنے ہوئے تھے۔ بچے بچے کو یہ سبق پڑھا یا جارہا تھا کہ ہمارے دکھوں کا مداواافغانستان سے روس کا انخلاہے۔ اسی تسلسل میں زندگیاں گزارتے ہوئے جب بم دھماکے خود کش حملوں میں تبدیل ہونے لگے تو ہم اس میں یہ احساس پیدا کیا جانے لگا کہ ہمارے دکھوں کا مداوا افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ہے۔ افغانستان کے گرداب میں پھنس کر کبھی روس اور کبھی امریکہ کو ناکوں چنے چبوانے والوں نے کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو، یہ ضرور کیا کہ پاکستان میں بے سکونی اور عدم تحفظ کو اوربڑھادیا۔ ہاتھیوں سے گنا چھیننے کےشوق پروان چڑھا کر ہمیں یہ بھولنے پر آمادہ کردیا گیا کہ جو دوسروں کے گھروں میں دوسروں کی دخل اندازی سے محفوظ نہیں رہتے۔

یہ حقیقت ہے کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہاں کی حکومتوں نے ہمارے مفادات اور وجود کو اہمیت نہیں دی جبکہ ہم چند مسلح جنگجوؤں کی کارستانیوں کو پاکستان کی حمایت تصور کرتے رہے۔ اس نوعیت کی کارروائیاں ان کے مزاجوں کا حصہ ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بھی ایسے ہی لشکر کشی کرتے رہے ہیں۔خانہ جنگی ان کی اپنی قبائلی روایات کو فوقیت حاصل رہی ہے۔ہمیں ان سے مراسم میں احتیاط برتنی چاہئے تھی لیکن کیا کیا جائے کہ ہر کسی سے اس بنیاد پردوستی کی کہ وہ مسلمان ہے اور ہر کسی سے اس بنیاد پر دشمنی کہ وہ مسلمان نہیں ہے،اس سوچ سے بہ یک جنبش قلم گلو خلاصی ممکن نہیں۔ یوٹرن لینا ایک اور سنگین غلطی ثابت ہوگا ۔رفتہ رفتہ ایک کار آمد سوچ کر فروغ دینا چاہئے جو ہم نہیں کرسکے۔ بہکے ہوئے نوجوانوں کی آنکھیں کھولنا اور نئی نسلوں کو نئے راستوں پر ڈالنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ڈراموں ،کھیلوں ،کہانیوں ، فلموں اوراظہاریوں کے ساتھ ساتھ درسی کتابوں میں بھی موضوعات تلاش کرنے ہوں گے۔اس مقصد ک ے لئے مقامی زبانوں کو ذریعہ اظہار بنایا جائے مقامی کیریکٹر تراشے جائیں ۔جب غیر ریاستی عناصر بچوں کو دوسروں کی جان لینے اور اپنی جان دینے پر آمادہ کرسکتے ہیں تو ریاستی عناصر یہ کام کیوں نہیں کرسکتے کہ آنے والی نسلوں کو اپنی اور دوسروں کی زندگیوں سے محبت ہو، جو کچھ ہمارے گردوپیش ہورہا ہے وہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔اس کی تخم ریزی ہوتی رہی، آبیاری کیلئے حالات سازگاری رکھے گئے اور اب ہم وہ فصل کاٹ رہے ہیں جو ہمارے وجود کیلئے سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے ۔ہمیں زمین کو ہموار کرنے کیلئے ایک طویل اور صبر آزما دور سے گزرنا ہوگا ۔وہ لوگ جو اس جنت ارضی کو فساد کے ذریعہ تباہ کررہے ہیں۔ وہ منظم ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں بھی منظم ہونا ہوگا جو امن اور سکون کے داعی ہیں۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/حقیقت-کا-ادراک-کیجئے/d/2007


No comments:

Post a Comment