ایم ودود ساجد
مجھے مجوزہ مرکزی مدرسہ بورڈ کی تجویز کی موافقت یا مخالفت ظاہر کرنے کی کوئی عجلت نہیں ہے۔ لیکن پہلے ہی دن سے کم وبیش تمام مسلم تنظیمیں اور تقریباً ہر مکتب فکر کے علما اس تجویز کی شدت کے ساتھ مخالف کرتے رہے ہیں ۔لیکن کیا ان سب نے اس مجوزہ ڈرافٹ کو پڑھا بھی ہے؟ میری معلومات کے مطابق خود مسلم ممبران پارلیمنٹ میں ہی چند کے علاوہ کسی نے مجوزہ ڈرافٹ کو پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔مرکزی مدرسہ بورڈ کی سن گن 2007سے جاری ہے اور اسی وقت سے ان کی چہار سو مخالفت بھی ہورہی ہے۔ شاید اسی امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے فروغ انسانی وسائل کے کپل سبل نے گزشتہ 3اکتوبر کو دونوں ایوانوں کے تمام مسلم ممبران کی ایک میٹنگ طلب کی تھی۔یہ میٹنگ نہ تو رات کے اندھیرے میں ہوئی اور نہ اس کا انعقاد لاطینی امریکہ کے کسی دور دراز علاقہ میں ہوا۔ وزارت نے ہر مسلم ممبرپارلیمنٹ کو دو۔دو بار دعوت نامہ بھیجے اور ساتھ میں مجوزہ اور بعد میں ہلکی پھلکی ترمیم ولا ڈرافٹ بھی ارسال کیا۔لیکن افسوس یہ ہے کہ اس اہم میٹنگ میں جہاں ہندوستان بھر کے دولاکھ سے زائد دینی مدارس کو ‘امریکی گیم پلان’ سے بچانے یا اس ‘پلان کوناکام’ بنانے کے لئے ایک اہم رول ادا کیا جاسکتا تھا 59میں سے محض 20مسلم ممبران پارلیمنٹ ہی پہنچے ۔غائب رہنے والوں میں مرکزی وزرا بھی شامل ہیں۔
2009کے الیکشن میں دوعلما دیوبند ’ مولانا اسرارالحق قاسمی اور مولانا بدرالدین اجمل قاسمی بھی لوک سبھا پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ جمعیت علما کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود مدنی (قاسمی ) پہلے سے ہی راجیہ سبھا میں موجود ہیں۔ ہر چند کہ تینو ’ الگ الگ پارٹیوں کے ٹکٹ پر ایم پی بنے ہیں تاہم ان میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ تینوں دارالعلوم دیوبند کے فرزند ہیں۔ بظاہر تینوں مجوزہ مدرسہ بورڈ کے سخت مخالف ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کپل سبل صاحب کے ذریعہ بلائی گئی میٹنگ میں مولانا اسرارالحق قاسمی ہی شریک ہوئے تھے ۔مسلمانوں کے اتنے اہم اشوپر بلائی گئی میٹنگ میں محض30فیصد مسلم نمائندوں نے شرکت کی۔ امید یہ تھی کہ تینوں عالم دین ممبران پارلیمنٹ پورے اہتمام کے ساتھ اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر اس میٹنگ میں شریک ہوں گے ۔ لیکن 59میں سے 20اور تین میں سے محض ایک کی شرکت نے مسلم مسائل کے تئیں مسلم نمائندوں کی بے حسی کو اور زیادہ اجاگر کردیا ۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ 4اکتوبر کے بعض اخبارات میں انہی مسلم ممبران پارلیمنٹ کے خیالات شائع ہوئے جو میٹنگ میں شریک ہی نہیں ہوئے ۔میٹنگ میں ان کی عدم شرکت اور اخبارات میں بیان بازی کا میرے نزدیک اس کے علاوہ کوئی سبب نہیں ہے کہ ان کے علمی بحث کرنے کی لیاقت نہیں ہے، آپ مخالفت کریں یہ آپ کا بنیادی اور پیدائشی حق ہے۔ لیکن مخالفت کے ٹھوس علمی اسباب اور دلائل ہونے چاہئیں ۔میں بلاتکلیف یہ الزام عائد کرتا ہوں کہ میٹنگ سے غائب رہ کر بیانات کے پلند ے جاری کرنے والے اس لیاقت سے محروم ہیں جو علمی بحث کے لئے درکار ہے۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/خوب-پردہ-ہے-کہ-چلمن-سے-لگے-بیٹھے-ہیں/d/2006
No comments:
Post a Comment