| |||||||||||||
صوفی حضرات کے مطابق اس سے قطع نظر کہ باہر کیا ہو رہا ہے، سکون، قلب کے اندر سے ہی آتا ہے۔ وہ لوگ جو دنیاوی خوشیوں کا تعاقب کرتے رہتے ہیں وہ ایسی حالت مین پہنج جاتے ہیں کہ انہیں احساس ہوتا ہے کہ تمام کامیابیوں نے ان کے اندر قناعت پیدا نہیں کی۔ قرآن میں کہا گیا ہے، ‘ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ’یقیناً خدا کی یاد دل کو آرام دیتی ہے’ (13:28) اور اس کے علاوہ ’ فاذ کرونی اذ کر کم ’ تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا (2:152)۔ نیلوفراحمد (انگریزی سے ترجمہ۔سمیع الرحمٰن ، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام) http://www.newageislam.com/NewAgeIslamUrduSection_1.aspx?ArticleID=6571 | |||||||||||||
Tuesday, February 7, 2012
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment