Wednesday, June 27, 2012

میرا بائی پر ایک ہلکی کتاب, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
میرا بائی پر ایک ہلکی کتاب

عظیم اختر

شکر، شکر، اگر ہندوستان کے چھوٹےبڑے شہروں اور قصبوں کی مسلم آبادی والی بستیوں اور گلی کوچوں میں محدود ہوکر اپنا تشخص برقرار رکھنے والی اردو ہندوستان کی وہ واحد زبان ہے جس میں شعری مجموعے اور تنقید جیسے خشک ،اکتادینے اور عوامی دلچسپی سے یکسر خالی مضمون کی ہر سال سب سے زیادہ کتابیں چھپتی ہیں ۔ ہمارے زمانہ طالب علمی یعنی آج سے پینتیس چالیس برس تک صورت حال بالکل مختلف تھی۔ وسائل کی کمی اور طباعت کی دشواریوں اور الجھنوں کی وجہ سے اردو کی کتاب چھاپنا ایک دشوار گزار مرحلہ تھا،وسائل کی کمی اور طباعتی دشواریوں کی وجہ سے تاثر سوچ سمجھ کر ہی کتاب چھاپتا تھا جس کی وجہ سے صاحب دیوان شاعر اور صاحب کتاب نثر نگار کم ہی نظر آتے تھے لیکن آج طباعت کی سہولتو ں ،آسانیوں اور ملک بھر کی ریاستی اردو اکیڈمیوں اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسے نیم سرکاری اداروں کی اردو نوازی کے صدقے میں مسووات کی اشاعت کے لئے مالی تعاون اور طبع شدہ کتابوں پر دیے جانے والے کیش ایوارڈ کے چلن نے اردو کتابوں کی اشاعت کا منظر نامہ ہی بدل دیا ہے۔ادب کے نام پر شائع کی جانے والی کتابوں کی بھرمار دیکھ کر یہ احساس پختہ ہونے لگا ہے کہ اب اردو میں کتابیں عام قارئین کی دلچسپی اور زبان وادب کو فروغ دینے کےلئے نہیں بلکہ اردو کی ریاستی اکیڈمیوں اور اسی طرح کے دوسرے نیم سرکاری ادارو ں سے اشاعت کے لئے مالی تعاون اور چھوٹے بڑے کیش ایوارڈ زحاصل کرنے کے لیے ہی لکھی اور چھاپی جارہی ہیں ۔ ان نیم سرکاری اداروں کے قیام سے عوامی سطح پر اردو زبان کو تو کوئی فروغ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی عوامی سطح پر اردو فروغ کے امکانات موجود ہیں۔ہاں یہ ضرور ہوا کہ ان اداروں کےارباب اقتدار کی خویش پروری نے قلم کاروں کی ہمت افزائی اور کتابوں کی اشاعت کے نام پر وانشگاہوں اور کالجوں میں اردو ادبیات کا درس دینے والے ہر استاد کو صاحب کتاب نفاذ بنادیا ، عام شاعروں ، افسانہ نگاروں اور ناول نویسوں کے ہلکے مسودوں کو مالی تعاون دے کر کتاب کی شکل بخش دی جن کو اردو پر بوجھ والی کتابوں کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا ۔

http://newageislam.com/urdu-section/میرا-بائی-پر-ایک-ہلکی-کتاب/d/1524



No comments:

Post a Comment