Tuesday, June 26, 2012

ہندوستانی سیاست کا کوہِ نور, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
ہندوستانی سیاست کا کوہِ نور

شفیق احمد (اسسٹنٹ ایڈیٹر(ریٹائرڈ )حکومت ہند

بیسوی صدی کے اوائل میں ایک ۲۴سالہ نوجوان نے ۱۹۱۲میں اردو صحافت کے ستون کی حیثیت سے ‘‘الہلال ’’ اور ‘‘البلاغ’’ کے ذریعہ تحریک آزادی کا بگل بجا کر انگریزی اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچادی تھی۔ عین اسی وقت ایک سن رسیدہ او رنحیف وتاتواں قائدنے بدن پر صرف دھوتی پہن کر اور ہاتھ میں ایک لاٹھی لے کر دنیا کو ‘‘اہنسا’’ کا پیغام دیا۔ دونوں کے اشتراک سے ہندوستان کی تحریک آزادی کی داغ بیل ڈالی گئی۔ آگے چل کر نوجوان کو ‘‘امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد’’ اور نحیف و تاتواں لیڈر کو ہندوستانی قوم نے ‘‘مہاتما گاندھی ’’ کا خطاب دیا۔ دونو ں کی پہلی ملاقات پرانی دہلی کے بلی ماران علاقہ میں واقع ایک تاریخی کوٹھی ‘‘شریف منزل’’ میں ہوئی تھی جہاں یوں بھی ملک کے اہم قائدین کسی نہ کسی موقع پر اکتفا ہوکر رفتار وسیاست پر تبادلہ خیال کرتے رہتے تھے۔ اس کے بعد مولانا آزاد اور مہاتما گاندھی نے اپنی رفاقت کو آخری دم تک نبھایا ۔ہندوستان کی تحریک آزادی اور پھرملک کی آزادی کے بعد پہلے وزیر اعظم اور ایک بلند پایۂ قائد کی حیثیت سے مولانا آزاد نے جو اہم اور باقابل فراموش کردار ملکی سیاست میں ادا کیا ہے ،اس نے بلا مبالغہ انہیں ‘‘ہندوستانی سیاست کا کوہِ نور ’’ بنادیا۔

مولانا آزاد کا کہنا تھا ‘‘غلامی کے چاہے کتنے حسین نام کیوں نہ رکھے جائیں ،غلامی بہر حال غلامی ہے۔’’ اس کا خمیازہ بھی انہیں بھگتنا پڑا ۔ہوا یوں کہ مولانا آزاد نے ‘‘ الہلال’’ میں انگریزی اخباروں سے کہیں پہلے ،دوسری عالمی جنگ کی کچھ ایسی خبریں اور تصویریں شائع کردی تھیں جنہیں صحافت کی زبان میں scoop کہا جاسکتا ہے۔اس زمانے میں اگر انٹر نیٹ یا ویب سائٹ ہوتا تو یہ مواد بین الاقوامی اعزاز پاتا۔ مگر مولانا آزاد کو اس کا صلہ یہ ملا کہ فرنگی حکومت نے ‘‘البلال’’ کے خلاف ‘‘بغاوت ’’ اور ‘‘سرکشی’’ کا ‘‘وارنٹ’’ جاری کردیا جس میں غیر مہذب ‘‘ ڈانٹ ڈپٹ’’ کے علاوہ اخبار سے ایک خطیررقم کی سیکورٹی بھی مانگی گئی لیکن مولانا آزاد نے نہ صرف یہ کہ برطانوی حکومت کی گھڑکیوں کو ردّ کردیا بلکہ ضمانت کی رقم دینے سے بھی انکار کردیا بس پھر کیا تھا، انگریزوں نے ‘‘ الہلال ’’ کی اشاعت کو منسوخ کردیا۔ہندوستان کی تاریخ میں ‘‘صحافت کی آزادی ’’ کو کچلنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

http://newageislam.com/urdu-section/ہندوستانی-سیاست-کا-کوہِ-نور/d/1538


No comments:

Post a Comment