عبدالحمید نعمانی
شیعہ ،سنی کے مابین کچھ باتوں کو لے کر اختلاف ،بہت پرانے ہیں، ویسے یہ تاریخی حقیقت ہے کہ شیعیت ایک سیاسی تحریک ہے، جس پرمذہب کا رنگ چڑھا دیا گیا ہے، اس کی شروعات ہی خلافت کے مسئلے سے ہوئی ، اس پر دونوں طرف سے اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ مزید لکھنے کی بالکل ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ عالمی اور ملکی سطح پر سیاسی، سماجی اقتصادی اور فوجی طورسے ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ شیعہ سنی دونوں کا اختلاف کے باوجود اتحاد اوایثار وقت کے ضروری تقاضوں میں شامل ہوچکا ہے۔ ایرانی انقلاب کے بعد اس کے لیے ماحول بھی پیدا ہوا ہے، 80کی دہائی سے حالات میں خاصی تبدیلی آئی ہے۔ بدنصیب پڑوسی ملک پاکستان کے سوا، شیعہ سنی میں وہ دوری ونفرت نہیں رہ گئی ہے، جو کچھ برسوں پہلے تھی۔ لکھنؤ تک بھی حضرات صحابہ کرامؓ پر تبرے بازی کی ناپاک روایت کھلے عام دفن سی ہوگئی ہے ۔ مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کو لے کر شیعہ سنی قائدین ایک ساتھ جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ مولانا صادق ،کلب جواد، علامہ سید عقیل الغروی ،مولاناذیشان ہدایتی ،جہاں شیعہ سنی اتحاد کی دعوت دیتے رہتے ہیں وہیں ایک ہی پلیٹ فارم سے بسا اوقات مختلف مسائل کے حل کے لیے جدوجہد میں شریک بھی ہوتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ وہ اختلافی مسائل میں سنی نقطۂ نظر سے اتفاق کرتے ہیں ،یا قریب آگئے ہیں وہ ان کے بارے میں شیعی نقطہ نظر کو ہی پیش کرتے ہیں تاہم انداز ایسا نہیں ہوتا ہے کہ لگے کہ کسی دشمنان اہل بیت کو سامنے رکھ کر باتیں ہورہی ہیں، ویسے سنیوں کے لیے تو اہل بیت کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ان سے محبت وتعلق ان کے دین وایمان کا حصہ ہے ، اسے ہمیشہ سے جانتے مانتے رہے ہیں۔اہل سنت والجماعت نے اہل بیت کے ہر صاحب ایمان کی خاک پاکو اپنی آنکھوں کا سرمہ سمجھا ہے۔ اس کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ائمہ دین کو حضرت انبیا ورسل کو معصوم سمجھا جائے ،اصل مسئلہ اہل تشیع کے سامنے رہا ہے کہ وہ کتنا اور کس طرح ان عظیم شخصیات اور ائمہ دین وشریعت کو احترام وعظمت دیتے اور محبت کرتے ہیں جن سے سنی محبت کرتے ہیں ۔ اتحاد کے معاملے کا تعلق اہل سنت سے نہیں بلکہ اہل تشیع سے ہے کہ وہ کہاں تک اتحاد کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے لیے اہل سنت کو کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/اہل-بیت-کے-نام-پر،-اہل-بیت-کا-انکار،-تحقیق-نہیں-،-شوشہ-بازی/d/1468
No comments:
Post a Comment