معصوم مراد آبادی
مسلمانوں کے لئے خوش خبری یہ ہے کہ دنیا بھر میں ان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ علم وآگہی کے میدان میں مسلمانوں کی نمائندگی مسلسل گھٹ رہی ہے اور وہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی پسپا ہورہے ہیں ۔ ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا کاہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔ دنیا کے چھ ارب 80کروڑ آبادی میں مسلمان ایک ارب 60کروڑ ہیں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسلم آبادی یہ اضافہ ان علاقوں میں درج نہیں ہوا ہے جہاں سے اسلام طلوع ہوا بلکہ آبادی میں اضافہ کی شرح ان علاقوں میں بڑھی ہے جہاں لوگ اسلام کے آفاقی پیغام ،مساوات اور انسانیت نوازی سےمتاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اس کے گہوارے یعنی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے زیادہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہے جہاں دیگر مذاہب کا غلبہ ہے۔
گذشتہ ہفتہ جب ایک امریکی تحقیقی ادارے پیو (PEW)نے دنیا بھر کی مسلم آبادی کے اعداد وشمار جاری کئے تو اسے اخبارات میں نمایا ں جگہ ملی اور مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ظاہر ہے مسلمانوں کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ مذہبی طور پر عیسائیوں کے بعد اب دنیا کی دوسری بڑی آبادی بن گئے ہیں ۔امریکی تحقیقی ادارے کا کہنا ہے کہ عیسائیت کے بعد اسلام دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے ۔دنیا میں عیسائیوں کی مجموعی آبادی 2ارب 10کروڑ سے زائد ہے۔
امریکی تحقیقی ادارے نے مسلمانوں کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ ان کی آبادی میں توقع سے زیادہ اضافہ درج ہوا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے روایتی علاقوں سے زیادہ ان کی آبادی اب غیر علاقوں میں بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لبنان سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی جرمنی میں ہوگئی ہے ۔شام سے زیادہ مسلمان چین میں ہیں ،اردن اور لیبیا کی مجموعی آبادی سے زیادہ مسلمان روس میں موجود ہیں۔ ایتھوپیا میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً افغانستان کے مسلمانوں کی آبادی کے مساوی ہوگئی ہے ۔پرسٹن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر امائی جمال کاکہنا ہے کہ اب یہ مفروضہ غلط ثابت ہورہا ہے کہ عرب کا مطلب مسلمان اور مسلمان کا مطلب عرب ہے۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/مسلم-آبادی-میں-بے-وزن-اضافہ/d/2000
No comments:
Post a Comment