مولانا ندیم الواجدی
ہندوستان میں دلت قومیں ہمیشہ سے پسماندہ رہی ہیں ، تعلیم میں ، اقتصادیات میں ،سیاست میں ،سماج میں ، ہر جگہ ان کو حاشیے پر رکھا گیا ہے، اگر چہ اب ان اقوام کو تعلیمی اداروں میں ،سرکاری ملازمتوں میں اور قانون ساز اداروں میں تحفظات دیئے جارہے ہیں، ان تحفظات کی وجہ سے ان طبقات میں کچھ سیاسی بیداری بھی پیدا ہوئی ہے ، تعلیمی اور اقتصادی سطح پر بھی ان میں کچھ مثبت تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں، ان کے باوجود معاشرے میں ان کو وہ عزت اور وقار امرتیہ حاصل نہیں ہوپارہا ہے جس کے وہ انسانیت کی روسے مستحق ہیں، اس کی وجہ دراصل وہ مذہبی تعلیمات ہیں جن سے ہندو مذہب کی معتبر کتابیں بھری پڑی ہیں اور جنہوں نے دلتوں کو سماجی اعتبار سے اچھوت اور بے وقار بنا دیا ہے، یہ لوگ کتنا ہی پڑھ لکھ لیں، کتنی ہی اچھی ملازمتوں پر کیوں نہ آجائیں اور کتنے ہی بڑے افسریا لیڈر کیوں نہ بن جائیں اعلیٰ ذات کے لوگ ان سے دور ہی رہنا پسند کرتے ہیں ،صدیوں کی روایات کے تسلسل نے ان کے دل دماغ میں یہ بات رائخ کردی ہے کہ وہ (اعلیٰ ذات کے لوگ) دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ پیدا کئے گئے ہیں اور دلتوں کے مقدر میں ذلت ہے ،کیا ان تاریخی سچائیوں کو جھٹلایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں برہمنوں کو چھتری ،ویش ،شود اور چنڈال جیسی قوموں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی حقوق اور مراعات حاصل رہی ہیں ، اسی کا اثر ہے کہ ان اقوام کو ہندو سماج میں کبھی عزت نہ مل سکی اور ان کے ساتھ ہمیشہ توہین آمیز سلوک کیا جاتا رہا ، حقائق تو یہ بتلا تے ہیں کہ ان قوموں کو اعلیٰ ذات کے لئے مخصوص کنویں سے پانی لینے تک کی اجازت نہیں ہے، نہ انہیں اعلیٰ ذات کے لئے بنائے گئے مندروں میں جانے کاحق ہے، ساتھ کھانے پینے کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،بہت سے علاقوں میں ان کے ساتھ اس دور ترقی میں انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے ، ان کے تالاب الگ ہیں، راستے الگ ہیں، ان کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ معاشرتی رسم ورواج میں بھی اپنے سے اونچی ذات کے لوگوں کے ساتھ برابری کرسکیں، اخبارات میں رات دن ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں گاؤں میں دلت ذات کے دولہا کو گھوڑی چڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی کیوں کہ گھوڑی پر سوار ہوکر یہ ناصرف اونچی ذات کے دولہوں کا حق ہے کبھی کبھی کوئی جرأت مدبرست نوجوان گھوڑی چڑھنے کی ہمت کر بھی لیتا ہے تو اسے سخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں تاکہ آئندہ کوئی شخص ایسی حرکت نہ کرسکے، روایتوں کے سامنے تمام قوانین ناکام اور بے بس ہیں ، اس صوبے میں بھی جہاں ایک دلت خاتون وزیر اعلیٰ ہے، جو صرف دلت ایجنڈے پر کام کرتی ہے اور دلتوں کی فلاح وبہبود کے لئے ہی سوچتی ہے ،دلتوں کے ساتھ غیر سماجی اور غیر آئینی سلوک کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات بھی قائم کئے جاتے ہیں ، گرفتاریاں بھی عمل میں آتی ہیں اور مرتکین کو جیل کی سزا بھی دی جاتی ہی ہے ، اس کے باوجود اونچی ذات کے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاوا پکتا رہتا ہے او ر کبھی کبھی آگ کا طوفان بن جاتا ہے ۔ حال ہی میں ایک خبر رساں ایجنسی نے یوپی میں دلتوں کی حالت زار پر ایک سروے رپورٹ جاری کی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قومیں اپنے ہی مذہب کے لوگوں کے ہاتھوں کس قدر ذلیل کی جارہی ہیں ،انسانی حقوق کیے ایشیائی کونسل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دلتوں پر ظلم وتشدد کے واقعات سال بہ سال بڑھتے جارہے ہیں ، 2007میں اس طرح کے 6628واقعات درج کئے گئے تھے ۔2008میں 4.5فیصد کے اضافے کے ساتھ واقعات کی تعداد بڑھ کر 6942ہوگئی ہے ،یہ صورت حال اس وقت ہے جب کہ اس صوبے میں دلتوں کی ایک سخت گیر بیٹی ،وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز اور جس کی ہدایت پر صوبے کے تمام حکام دلتوں کی مدد کے لئے ہمہ وقت مستعدد رہتے ہیں ،قابل ذکر بات یہ ہے کہ واقعات کی یہ تعداد سرکاری اندراجات کے مطابق ہے۔
http://newageislam.com/urdu-section/اسلام-،احترام-انسانیت،-مساوات-اور-دلت-اقوام/d/1531
No comments:
Post a Comment