Tuesday, June 26, 2012

ایک طرز حکومت یہ بھی ہے, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section

ایک طرز حکومت یہ بھی ہے

مفتی محمد زبیر حق نواز

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت عامر بن ربعیہؓ کو ایک علاقہ کا گورنر بنا کر بھیجا ،کچھ عرصہ گزر نے کے بعد ان کے نظام اور احوال کی تحقیق کیلئے لوگوں سے معلومات کروائیں ۔ عام طور پر ان کی تعریف کی گئی، مگر ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی تین شکایتیں کیں۔ ایک یہ کہ یہ فجر کی نماز کے بعد اپنے گھر چلےجاتے ہیں اور کچھ دیر کے بعد یہ دربار میں آتے ہیں، جبکہ پچھلا امیر صبح کی نماز کے بعد سیدھا دربار میں آجاتا اور لوگوں کے مسائل سننا شروع کردیتا ۔دوسری شکایت یہ پیش کی کہ یہ ہر جمعہ کے دن فجر کی نماز کے بعد گھر چلے جاتے ہیں اور کافی دیر گھر میں گزارتے ہیں اور ان کی کئی گھنٹوں کے دوران اگرکوئی ان کا دروازہ بھی کھٹکھٹا ئے تو یہ دروازہ نہیں کھولتے اور نہ باہر آتے ہیں ۔ تیسری شکایت یہ ہےکہ یہ ہر دس پندرہ دن کے بعد کسی بیماری یا کسی نامعلوم سبب کے بنا پر بے ہوش ہوجاتے ہیں ۔ ان پر غشی کے دورے پڑتے ہیں اور یہ بے ہوشی بعض اوقات کئی گھنٹوں ،بلکہ نصف سے زائد د ن تک رہتی ہے۔ اس دوران میں ظاہر ہے کہ یہ کوئی مسئلہ وغیر ہ حل کرنے یا سننے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے۔حضرت عمرؓ نے انہیں طلب فرمایا اور لوگوں کے سامنے ان سے ان باتوں کی وضاحت طلب کی۔ اس پر انہوں نے عرض کیا: امیر المومنین کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کا ذکر کرنا مناسب نہیں ، میں تنہا ئی میں آپ سے بات کرلوں گا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور حکم دیا کہ ابھی اسی مجلس میں لوگوں کے سامنے ان امور کی وضاحت پیش کرو۔چنانچہ حضرت عامر ؓ کو یا ہوئے:امیر المومنین جہاں تک پہلی شکایت کا تعلق ہے کہ ہو صبح کی نماز کے بعد گھر چلا جاتا ہوں اور پچھلے امیر کی طرح براہ راست دربار میں نہیں آتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میری اہلیہ ایک طویل عرصہ سے اتنی بیمار ہے کہ وہ بستر پر ہی ہوتی ہے، وہ اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتی ۔میرے گھر میں کھانے پکانے والا کوئی نہیں ہے، میں صبح خود بکری کا دودھ دوہتا اور اپنے اور اپنی بیمار بیوی کے لئے کچھ مختصر کھانے کا انتظام کرتا ہوں اور اس سے فارغ ہوکر دربار میں حاضر ہوتا ہوں۔ دوسر ی شکایت سے متعلق وضاحت یہ ہے کہ امیر المومنین میرے پاس پہننے کیلئے کپڑوں کا صرف یہی ایک جوڑا ہے جو اس وقت میں پہنا ہوا ہے، میں جمعہ کے دن اسے اتار کر خود دھوتا ہوں اور پھر اس کے سوکھنے کے کا انتظار کرتا ہوں، اس لئے جمعہ کے دن فجر کی نماز کے بعد کپڑوں کے سوکھنے تک گھر میں رہنا پڑتا ہے ،ظاہر ہے جب تک یہ کپڑے خشک نہ ہوں، باہر آنا ممکن نہیں ۔ جہاں تک تیسری شکایت کا تعلق ہے تو امیر المومنین کچھ دن گزر نے کے بعد مجھے ایک واقعہ یاد آجاتا ہے ،جس کی وجہ سے مجھ پہ یہ کیفیت طاری ہوتی ہے۔ وہ واقعہ خبیب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے کہ میں اس وقت کافر تھا، جب حضرت خبیبؓ کو زنجیروں سے جکڑ کر تختہ دار کی طرف لایا جارہا تھا ، کفار کا ایک بہت بڑا مجمع جمع تھا ،جو شادیانے بجارہا تھا اور خوشی سے تالیاں پیٹ رہا تھا ،میں بھی ان کافروں میں شامل تھا، اسی حال میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، جنہیں دیکھ کر کافروں نے خوشی کا اظہار کیا اور میں بھی اس وقت انہی میں شامل تھا ۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/ایک-طرز-حکومت-یہ-بھی-ہے/d/1376

No comments:

Post a Comment