ہارون رشید
جہاد نہیں یہ جنون ہے کہ جہاد کی اخلاقی شرائط ہیں۔ دائمی اور ابدی کہ قرآن کریم کا کوئی فرمان اور اللہ کے آخری رسول کا کوئی ارشاد ،عارضی،سطی اور مقامی نہیں ہوتا۔ گردش لیل ونہاد میں وہ دائم برقرار رہتا ہے ۔ جہاں دوسروں کی سانس ٹوٹنے لگتی ہے، بھلے شاہ وہاں سے ابتدا کرتا ہے ، یہ اسی کا مصرعہ ہے۔
‘‘سچ آکھیاں بھانجفر مچدااے’’
سچ بولا جائے تو شعلے بھڑک اٹھتے ہیں ،سچ صرف یہ نہیں کہ افغانستان اور اس کے عم زاد قبائلی علاقوں میں فتنوں کا دروازہ امریکی حملے سے کھلا ۔ سچ یہ بھی ہے کہ سفاک سوویت یونین کی سرخ افواج نے افغانستان میں ڈھائی سو برس سے چلے آتے ،احمد شاہ ابدالی عہد کے عمرانی معاہدے کا تاروپود بکھیر دیا تھا۔یہ بھی جنگ کے میدان میں ایک عشرے تک خم ٹھونک کر کھڑے رہنے والے افغانی مجاہدین کے رہنما نیا عمرانی معاہدہ تخلیق نہ کرسکے جو اجتماعی زندگی کو درکار کم از کم رواداری کے لئے لازم ہوتا ہے۔ اتنی ہی بڑی صداقت یہ بھی ہے کہ سوویت یونین کی پسپائی کے بعد امریکہ نے افغانستان پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی ۔ایسی حکومت جس کا افغان عوام کی امنگوں اور احساسات سے دور کا واسطہ بھی نہ ہو اور یہ کہ اس مرحلے پر اول بینظیر بھٹو اور پھر میاں نواز شریف کی حکومتو ں نے کما ل درجے کے اخلاقی افلاس کامظاہرہ کیا۔ یہ بھی نہ صرف امریکہ ، روس، یورپی یونین اور ایران بلکہ پاکستانی حکمرانوں نے افغانی عوام کی بجائے اپنے مفادات کو ملحوظ رکھا ۔ ان سب نے بھلا دیا کہ دوسروں کی طرح افغان سرزمین پر بسنے والے بھی جیتے جاگتے ہیں اور سے زیادہ گڑوا سچ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر جہاد کرنے والے تمام افغان اگر چہ مخلص تھے مگر ان کے رہنما اپنے گروہی اور قبائلی تعصبات سے رہائی نہ پاسکے۔ خانہ جنگی کے خلاف طالبان اور رد عمل تھے مگر ردعمل ہی ۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/جہاد-نہیں-یہ-جنون-ہے/d/1401
No comments:
Post a Comment