Thursday, June 28, 2012

شمش العلما خواجہ الطاف حسین حالی, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
شمش العلما خواجہ الطاف حسین حالی

فاروق ارگلی

ہریانہ ہمارے ملک کا مردم خیز خطہ ہے۔ قدیم ترین روایات کے مطابق ہریانہ کی تاریخ کاآغاز ویدوں کے زمانہ سے ہوتا ہے۔ ہندوستان کے عظیم ترین رزمیہ مہا بھارت میں ہر یانہ کی مرکزی اہمیت ہے کیونکہ کوروؤں اور پانڈووں کی جنگ عظیم کا میدان کرو کشیتر ہریانہ ہی میں واقع ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کے بعد پانی پت کا میدان بڑی بڑی جنگوں اور دو تہذیبوں کے اتصال کا گوانہ رہا ہے۔دور مغلیہ میں ہریانہ دہلی کا ہی ایک حصہ تھا لیکن 1857کے انقلاب میں ہندوستانیوں پر غلبہ حاصل کرلینے پر جھجر اور بہاد ر گڑھ کے نوابیں اور ریواڑی کے بہادر مجاہد آزادی راؤ تلارام سے اقتدار چھین لینے کے بعد انگریزوں نے ہر یانہ کے کچھ علاقوں کو مرکزی برٹش حکومت میں شامل کرلیا اور پٹیالہ ،نابھ اور جیند کے علاقے اپنے وفادار ہندوستانی حکمرانوں کو بخش دیے۔اس طرح ہریانہ ایک صدی تک پنجاب کا حصہ بنارہا ۔نومبر 1966میں پنجاب کی نئی تقسیم کے بعد ہر یانہ ایک مکمل ریاست کی صورت میں ملک کے نقشے پر ابھرا اور حیرت انگیز تیز رفتاری سے تعمیر وترقی کی راہ میں آگے بڑھ کر ہندوستانی کا ترقی یافتہ اور خوشحالی صوبہ بن گیا۔

ہریانہ کی سرزمین انسانی تہذیب کے ارتقا ئی دور سے ہی مردم خیز رہی ہے۔ یہاں ہر زمانہ میں اہل علم ، اہل ہنر، اہل سیف اور اہل عرفان ہستیاں پیدا ہوتی رہی ہیں جن کے تذکروں سے ہماری تاریخ جگمگارہی ہے۔گزشتہ ایک ہزار برسوں سے ہریانہ بزرگان دین اور علم وادب کے اکابرین کا مرکز ہے۔ ہندوستان کی قدیم ہندو مسلم مشترکہ تہذیب کی زندہ علامت اردو زبان کی تاریخ میں بھی سرزمین ہریانہ کی خاص اہمیت ہے۔ اردو کے لافانی شاعر غالب کا ہریانہ سے گہرا تعلق رہا ہے کیو نکہ فیروز پور جھر کہ ان کا نانہالی شہر ہے۔ پانی پت کی پاکیزہ دھرتی میں جہاں حضرت بو علی شاہ قلندر ؒ اور انگنت اولیا و صلحا آرام فرما ہیں وہیں اس شہر نے اردو زبان و ادب کو متعدد ایسے گرانیہا گوہر آبد ار عطا کیے ہیں جن کی چمک دمک لازوال ہے۔ انہی میں اردو علم وادب کے کوہ نور خواجہ الطاف حسین حالی کی شخصیت سب سے نمایاں ہے۔ ہریانہ کے اس سپوت پر نہ صرف اردو زبان و ادب کی عالمی برادری بلکہ سارے ہندوستان کو ناز ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حالی کی ہمہ جہت شخصیت کی دوسری مثال اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک سے ایک بڑھ کر انگنت شاعرو ں ، ادیبوں، محققوں ، ناقدوں اور دانشوروں کے باوجود تلاش نہیں کی جاسکتی ۔ حالی بیک وقت صاحب فکر شاعر، صاحب طرز ادیب، صاحب نظر ناقد اور صاحب دل مصلح قوم تھے ۔ حالی کی عظمت کا اندازہ اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ وہ اردو شعرا کی اس سب سے پہلی صف کے امام ہیں جنہوں نے بامقصد اور وسیع فکر ی پیش منظر رکھنے والی جدید نظمیہ شاعری سے روشناس کرایا ۔اردو زبان اور اس کا شاندار ادب اگر آج دنیا کی تمام ترقی یافتہ زبانوں میں اپنا مقام بناسکا ہے تو اس میں حالی کا اشتراک سب سے اہم ہے کیونکہ حالی کو ہی اردو تاریخ کے سب سے پہلے تنقید نگار ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔ حالی نے مقدمہ شعر وشاعری اور غالب کی شاعری پر یادگار حالی لکھ کر نہ صرف اردو تنقید کا پہلا دروازہ کھولا بلکہ غالب کو غالب بنانے اور انسانی تاریخ کا بہت بڑا مفکر شاعر ثابت کرنے کی اس دور میں ساز علمی مہم کا آغاز کیا جو غالبیات کا دقیع وسیع موضوع بن کر نہ صرف اردو کے عبقری اور دانشوروں بلکہ دوسری عالمی زبانوں کے ناقدین اور محققین کے لیے تفہیم غالب کی نئی نئی شاہراہیں تعمیر کررہی ہے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/شمش-العلما-خواجہ-الطاف-حسین-حالی/d/1985


No comments:

Post a Comment