اشتیاق بیگ
نصب شب کا وقت تھا، گوانتا موجیل کے کیمپ ڈیلنا میں تعینات 19سالہ امریکی فوجی ہولڈ بروکس مراکس کے مسلمان قیدی نمبر 590احمد الرشیدی سے سلاخوں کے باہر سے محوگفتگو تھا۔ بروکس کی خواہش پر احمد الرشیدی نے جیل کی سلاخوں سے ایک پرچی بروکس کے حوالے کی جس پر عربی اور رومن انگلش میں درج تھا۔‘‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدؐ اللہ کے رسول ہیں’’۔بروکس نے اس کلمے کو ادا کیا اور احمد الرشیدی نے اسے مسلمان ہونے کی مبارکباد دی اور اس کا نام مصطفیٰ عبداللہ تجویز کیا۔دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا مگر ان کے درمیان میں جیل کی سلاخیں حائل تھیں۔ گوانتا ناموجیل میں تعینات امریکی فوجی ہالڈ بروکس کے مراقش کے قیدی احمد الرشیدی کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے کا یہ واقعہ میں نے مراقش کے اخبارات میں پڑھا ۔ میں کام کے سلسلے میں کچھ دن قبل مراقش آیا ہوں ۔مراقش کے اخبارات میں امریکی گارڈ بروکس کی تصویر چھپی جس میں وہ خوبصورت داڑھی رکھے، ٹوپی پہنے اور ہاتھ میں قرآن لے کر کھڑا ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس چہرے پر وہ نور عطا کیا ہے جو وہ اپنے خاص بندوں کو اپنی عنایت سے عطا کرتا ہے ۔
گوانتا ناموجیل میں تعیناتی کے وقت ہالڈ بروکس شراب کا رسیا اور موسیقی کا دلدارہ تھا۔ وہ اللہ کی وحدانیت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس کے دائیں بازوں پر نقش ونگار ( Tattoo) بنا تھا جس میں تحریر تھا۔‘‘ شیطان کے کہنے پر چلو ۔’’ گوانتاناموجیل بھیجنے سے قبل ٹریننگ کے دوران اسے 9/11کے واقعات کی ویڈیوز دکھائی گئیں ،اسے ٹوئن ٹاور جسے اب گراؤنڈ زیرو کہا جاتا ہے، کاؤنٹ کرایا گیا او ر بتایا گیا کہ گوانتا نامو میں قید مسلمان قیدی بدترین لوگ ہیں۔ یہ افراد اسامہ بن لادن کے ساتھی ہیں ، ان میں کوئی بن لادن کا ڈرائیور ، کک او رکوئی لاس کا محافظ ہے اور یہ سب لوگ اس کے وفادار امریکہ کے دشمن ہیں اور یہی افراد 9/11کے واقعے میں ملوث ہیں۔ اگر انہیں کبھی موقع ملا تو یہ آپ کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔اس لیے ان جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جائے۔گوانتا ناموجیل کے مختلف کمروں میں بند قیدیوں پر کڑی نظر رکھنا اور ان کو تفتیش کاروں تک لے جانا بروکس کی ڈیوٹی میں شامل تھا۔وہ رو ز ان قیدیوں پرانسانیت سوز مظالم اور قرآن کی بے حرمتی کے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا اور انہیں برا محسوس کرتا تھا۔ اس کے دوسرے ساتھی گارڈ شراب کے عادی ،عیاش اور تعصب سےبھرپور تھے اور وہ حکام کی جانب سے ملنے والے احکامات پر اندھا دھند عمل پیرا ہوتے تھے ۔ اپنی ڈیوٹی کے دوران اسے قید یوں کے ساتھ ملنے کے کافی مواقع میسر تھے ۔
http://www.newageislam.com/urdu-section/گوانتا-موجیل-میں-امریکی-فوجی-کا-قبول-اسلام/d/2022
No comments:
Post a Comment