Thursday, June 28, 2012

تعدد ازدواج ، اسلام اور علماء, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
تعدد ازدواج ، اسلام اور علماء
محمود عالم صدیقی
تعدد ازدواج Polygamyاسلام کے اس مسائل میں سے ہے جسے اہل مغرب نے سب سے زیادہ ہدف وتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے اسلام کو مردوں کی اجاروداری (Monopoly)اور عورتوں کے تئیں ظلم وزیادتی والا مذہب قرار دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں اہل یورپ کے ان الزامات کو بڑھاوا دینے میں ہمارے وہ علماء حضرات بھی سرفہرست ہیں جو تعدد ازدواج کے بلا شرط قائل ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے تعدد ازدواج کی اجازت عدل ومساوات کی شرط پردی ہے۔ اسلام سے قبل تعدد ازدواج کا چلن عرب میں اغنیاء ورؤساء کے مابین موجود تھا۔ اس تعددازدواج شرافت، مالداری اور جوانمردی کی علامت مانی جاتی تھی ۔ اغنیاء وشرفاء اپنی مالداری اور جوانمردی کے ثبوت کے لیے زیادہ سے زیادہ شادیاں کرتے تھے جس سے سوسائٹی میں خاندانی و عائلی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا ۔ ایسے میں جب اسلام کی آمد ہوئی تو اسلام نے آزادی نسواں کا علم بلندکرتے ہوئے تعدد ازدواج کو چار شادیوں میں محدود کردیا۔ اس میں بھی تعدد ازدواج کو قانونی طور پر عدالت ومساوات جیسی شرائط سے مشروط کردیا جیسے قرآن میں ہے :فانکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ وثلاث ورباع ، فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ یعنی عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہو دودو ،تین تین ، چار چار، شادی کرلو، پس اگر تمہیں اں بات کا اندیشہ ہوکہ تم ان کے درمیان عدل و انصاف قائم نہیں کرسکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو۔ تعدد ازدواج کی اباحت عدل ومساوات اور اتفاق جیسی شرائط پر معلق خود اس بات پر دلالت ہے کہ اسلام تعددازدواج کو بڑھاوا دینا نہیں چاہتا بلکہ اس پر کنٹرول کرنا چاہتاہے۔فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ یہ جملہ خود انسان کو دوسری تیسری شادی کے بارے میں سوچنے سے قبل اس کے مادی ،نفسیاتی اور معاشی نتائج پر غور کرنے پر ابھارتا ہے کہ آیا وہ تمام بیویوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ ان کی اولاد کی بہترین تعلیم وتربیت کرسکتا ہے یا نہیں ؟ ان پر بافراغت خرچ کرنے پر قدرت رکھتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو اسے چاہئے کہ وہ صرف ایک بیوی پر اکتفاکرے ۔ تعدد ازرواج کے مابین عدل ومساوات کے مفہوم کا تذکرہ کرتے ہوئے شیخ ابوزہر ہ لکھتے ہیں ’’ومن تاحیۃالدالۃ فقدجواوجب العلماء اعتبارھا بالا تفاق،وھی فی الحقیقۃ لیست ملا حظۃ عند القعدد بل ہی ملاحظۃ فی کل زواج فقد قررالفقھاء بالا جماع فی المذاہب التسعۃ الا سلامیۃ آن الزواج یکون حراما اذاتیقین مرید الزواج من آنہ سیظلم زوجۃ لا الظلم حرام فھا یودی الیہ یکون حراما فلیست العدالۃ مطلوبۃ فی التعدد فقط ،بل ھی مطلوبۃ فی کل زواج ،فمن کان لا یعدل لا یتزوج وعلیہ آن پروض نفسہ عن الا متناع عن الزنا‘‘یعنی بالا تفاق ،علماء نے تعدد ازدواج میں عدل و مساوات کا اعتبار کرنا واجب قرار دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف تعدد ازدواج میں عدل ومساوات ضروری نہیں ہے بلکہ عدل ومساوات کو برقرار رکھنا ہر شادی کے لیے ضروری ہے۔ اسلام کے نوفقہی مذہب کے فقہا ء کا اس بات پر اجماع ہیکہ شادی حرام ہوگی جب شادی کرنے والے کو اس بات کایقین نہ ہوکہ وہ اپنی پر ظلم کرے گاکیونکہ ظلم حرام ہے اور جو چیز ظلم کی طرف رہنمائی کرے وہ بھی حرام ہے ۔ چنانچہ عدل ومساوات صرف تعددازدواج میں مطلوب نہیں بلکہ یہ ہرشادی کے لیے ضروری ہے ۔لہٰذا جو انصاف نہیں کرسکتا اسے چاہئے کہ شادی نہ کرے اور اسے اپنے نفس پر قابو رکھنا چاہئے تاکہ زنا سے بچ سکے‘‘۔(مجلۃ العربی ،1961وایضا ’’المرأۃ العربیۃ فی منظور الدین والواقع ‘‘جمانہ طہ ،ص 185)
http://www.newageislam.com/urdu-section/تعدد-ازدواج-،-اسلام-اور-علماء/d/1765

No comments:

Post a Comment