Wednesday, June 27, 2012

سپریم کورٹ میں داڑھی کی فتح, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
سپریم کورٹ میں داڑھی کی فتح

معصوم مرادآبادی

آخر کار ایک مسلمان طالب علم نے ملک کی سب سے بڑی عدالت سے اپنی داڑھی کو برقرار رکھنے کا مقدمہ جیت ہی لیا ۔ اس طالب علم کی ثابت قدمی نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اگر کوئی پختہ ایمان والا مسلمان اسلامی شعائر پر خلوص سے کار بند ہے تو پھر عدالت عظمیٰ بھی اس کے موقف کی تائید کرتی ہے۔

مدھیہ پردیش کے ایک نوینٹ اسکول میں پڑھنے والے محمد سلیم نامی طالب علم کو اسکول نے محض اس لئے خارج کردیا تھا اس نے عالم شباب میں داخل کردیا تھا کہ اس نے عالم شباب میں داخل ہوکر دنیا کی رنگینیوں کے بجائے اسلامی تعلیمات میں پناہ حاصل کی تھی اور سب سے پہلے روزہ نماز کی پابندی کے ساتھ اپنے چہرے کو سنت نبویؐ کے نور سے سجایا تھا ۔ عیسائی مشنری کے اسکول کو محمد سلیم کی یہ ادا ایک آنکھ راس نہیں آئی اور اسے اس بنیاد پر اسکول سے خارج کردیا گیا کیوں کہ اس نے داڑھی منڈوانے سے صاف انکار کردیا تھا ۔محمد سلیم کے والد نے اپنے بیٹے کے اس بنیادی آئینی حق کی حفاظت کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور معاملہ مدھیہ پریش ہائیکورٹ تک جاپہنچا لیکن وہاں بھی اس کی درخواست مسترد کردی گئی۔ محمد سلیم نے ہمت سے کام لے کر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں پناہ لی لیکن ابتداء میں یہاں بھی ایک سیکولر اور منصف مزاج جج نے اس کی داڑھی پر ایسے منفی ریمارکس پاس کئے کہ پورے ملک میں ہنگامہ مچ کیا کوئی اور ہوتا تو اس صورت حالسے دل برداشتہ ہوکر گھر جا بیٹھتا یا اپنی داڑھی صاف کراکے دوبارہ اسکول کی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ لیتا ۔ لیکن محمد سلیم نے ہمت نہیں ہاری اور وہ اپنے داڑھی رکھنے کے آئینی حق کی حفاظت کے لئے لڑتا رہا اور آخر کار گذشتہ 11ستمبر کو عدالت عظمیٰ نے اس کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے نرملا کا نوینٹ اسکول کو یہ حکم دیا کہ وہ 10ویں جماعت کے طالب علم محمد سلیم کو داڑھی سمیت اسکول میں واپس لے۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/سپریم-کورٹ-میں-داڑھی-کی-فتح/d/1770


No comments:

Post a Comment