Friday, June 29, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 18, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 18

حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

پر قابل اطلاق نہیں ہے بلکہ اس آیت میں خطاب خاص از واج رسول خدا صلعم کی طرف ہے جیسا کہ اس سے پہلی آیت سے ظاہر ہے چنانچہ ہم دونوں آیتوں کو یہاں لکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کی عورتوں تم ہر عام عورت کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیز گار ہوتو اس طرح دب کر بات مت کہو کہ جس شخص کے دل میں کھوٹ ہوا سے لالچ پیدا ہو۔ تم معقول بات کہو۔ اور اپنے گھر وں میں ٹھہرو اور جاہلیت کے دکھانے پھرنے کا دستور ترک کرو۔

تیسری آیت بھی سورہ احزاب کی ہے جہاں فرمایا کہ اے نبی اپنی بیبیوں او ر اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں کو کہہ دے کہ وہ چادریں اوڑھ کر نیچے تک لٹکالیں ۔ اس سے وہ غالباً پہچانی جائیں گی اور پھر ان کو کوئی ایذانہ دے گا۔ سورہ احزاب مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ زمانہ نزول سورہ احزاب میں مدینہ میں اسلام کا پورا تسلط نہ ہوا تھا اور مسلمان باشندوں کی آزادی بجز یہودیوں اور منافقوں کے قوم وقرار کے جسے وہ ہر وقت توڑ سکتے تھے اور کسی قانون کی حفاظت میں نہ تھیں ۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو کفار سے طرح طرح کی ایذائیں پہنچتی رہتی تھیں چنانچہ ایک تکلیف یہ بھی تھی کہ بدمعاش لوگ مسلمانوں کی عورتوں کو مدینہ میں چھیڑ تے اور ٹوکتے اور دق کرتے رہتے تھے ۔ منافقین جو ظاہر میں اپنے تئیں مسلمانوں کا دوست ظاہر کرتے تھے مسلمانوں کی عورتوں کو دق کرنے کے بعد عذر دیتے تھے کہ ہم نے پہچانا نہیں تھا کہ یہ تمہاری عورتیں ہیں ۔ لاچار مسلمان عورتوں نے شرما کرنکلنا چھوڑ دیا اور یہ سخت تکلیف جرح کا ہوا۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-18/d/2130


No comments:

Post a Comment