Friday, June 29, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 13, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 13

حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

ایک یونیورسٹی کا سند یافتہ ریل میں سوا رہوتا ہے اور اپنے درجہ میں تین چار اور شخصوں کو پاتا ہے جن میں تین بے علم مہاجن ہیں اور ایک مڈل کلاس کا طالب علم۔ کون شک کرسکتا ہے کہ یہ دنیا مسافر سب سے اول اس طالب علم سے ہی گفتگو کرے گا اور اپنا گھنٹہ دو گھنٹہ سفر اسی گفتگو کے ذریعہ سے جس سے درحقیقت اس کو ایک حرف کا فائدہ علمی نہیں ہے خوش ہوکر گذار ے گا۔ ہم نے کسی شخص کے روبرو ایک شعر پڑھا ۔ وہ نہایت مخطوط ہوا اور دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی۔ بتلاؤ ہمیں کیا فائدہ علمی اس سے حاصل ہوا مگر اس کی صحبت سے خوشی حاصل ہونے میں کچھ شک نہیں ۔ بہت کم تعلیم یافتہ خوش مذاق نوجوان ایسے نکلیں گے جو برابر تین چار گھنٹہ تک جاہل آدمیوں کی لغو گفتگو سننے کا تحمل رکھتے ہوں۔ وہ بہت جلد اس گفتگو سے اکتا جائیں گے اور اس صحبت سے مخلصی حاصل کرنا چاہیں گے ۔ یہ تکلیف جب شوہر کو زوجہ کی طرف سے ملتی ہوتو بے حد درد ناک ہوتی ہے ۔ کیو نکہ زوجہ کی معیت لحظ دولحظ کی نہیں ہوتی بلکہ عمر بھر کی۔ اس لئے بجزان لوگوں کے جو شادی کا اصول یہ بیان کرتے ہیں کہ روٹی ٹکڑے کا آرام ہوجائے او رکوئی شخص ایسی بیوی کی صحبت کو سوائے اوقات ضرورت کے گوارا نہیں کرتا ۔ ہم نے بہت سے بد چلن لوگوں سے ان کی بدچلنی و بدوضعی کا آغاز پوچھنے پر معلوم کیا کہ انہوں نے کسی کی صحبت صرف اس وجہ سے اختیار کی کہ اس کا کلام نہایت مودب اور نہایت شستہ تھا اور اپنے کلام کو وہ شعر وسخن سے زینت دیتی تھی۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-13/d/2112


No comments:

Post a Comment