Friday, June 29, 2012

عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 12, Urdu Section, NewAgeIslam.com

Urdu Section
عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت: قسط 12

مولوی ممتاز علی کی مائینہ ناز تصنیف‘‘حقوق النسواں’’

مگر کیا ان مضمونو ں کی کتابوں کے پڑھانے کی مخالفت ہم اس وجہ سے کرتے ہیں کہ عورتوں کے مزاج میں کوئی ایسی خصوصیت ہے جو اس تعلیم کی منافی ہے۔ نہیں یہ بھی نہیں بلکہ ہم ان کتابوں کا پڑھانا صرف اس نظرسے ناپسند کرتے ہیں کہ جن اغراض کے لئے ہم عورتوں کی تعلیم ضروری سمجھتے ہیں ان اغراض کے لئے ان کتابوں کا فی الحال پڑھانا چنداں مفید نہیں ہے۔ عورتوں کی تعلیم کی ضرورت کے لئے کوئی تو یہ دلیل لاتا ہے کہ تعلیم پاکر وہ اپنے پرائے کے حقوق سے بخوبی آگاہ ہوجائیں گی۔ کوئی کہتا ہے کہ خانہ داری نہایت سلیقہ سے کرنے لگیں گی۔ کوئی فرماتے ہیں کہ بے علم نتواں خداراشناخت ۔ یہ سب دلائل صحیح ہیں مگر اصلی امری یہ ہے کہ یہ سب خوش کرنے کی باتیں اور دلائل کی تعداد بڑھانے کا حیلہ ہے ۔ موجودہ تمدنی حالت میں عورت باوجود اپنی جہالت کے جملہ حقوق سے آگاہ۔ خانہ داری میں نہایت سگھڑ اور طاعت وعبادت الہٰی کی شائق پائی جاتی ہیں۔ بے شک یہ صحیح ہےکہ بے علم معرفت الہٰی ممکن نہیں ہے مگر جس علم سے یہ بات حاصل ہوتی ہے وہ اور علم ہے۔ مرات العروس اور زبد ۃ الحساب سے عرفان الہٰی میں کسی درجہ کے حاصل کرنے کی امید رکھنا خیال بے ہودہ ہے۔ کتابیں لکھنے والے اور تقریریں کرنے والے عورتوں کی تعلیم کے فرضی اور خیالی فائدے کچھ ہی بتایا کریں اور وہ کسی حد تک صحیح بھی ہوں مگر جہاں تک ہم کو لوگوں کے مزاج شناسی کا تجربہ ہوا ہے اس کے رو سے کہہ سکتے ہیں کہ عورتوں کو تعلیم دینا زیادہ تر اس غرض سے ہے کہ ان کی صحبت باعث مسرت اور ان کی ہمکلامی دلچسپ او رموجب تفریح و انشراح خاطر ہو۔ اگر چہ الفت و محبت کا مدار تعلیم یافتہ بے تعلیم ہونے پر نہیں لیکن الفت دلی اور خلوص قلبی کا اظہار اور ان اصول کو ترقی دینا جو سچے انس اور محبت کے سرچشمے ہیں جیسا تعلیم یافتہ بیوی سے ہوسکتا ہے وہ ناخواندہ سے نہیں ہوسکتا۔

http://www.newageislam.com/urdu-section/عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت--قسط-12/d/2106


No comments:

Post a Comment