Wednesday, January 28, 2015

The meaning of Zikr in the holy Quran قرآن کریم میں ذکر کا مفہوم

The meaning of Zikr in the holy Quran قرآن کریم میں ذکر کا مفہوم

آفتاب احمد ، نیو ایج اسلام
28 جنوری، 2015
ومن اعرض عن ذکری فانّ لہ معیشتہً ضنکاً و نحشرہ یوم القیامتہِاعمیٰ ۔ قال رب لم حشرتنی اعمی و قد کنت بصیراً۔قال کذلک آتتک ئایتنا فنسیتہا۔ وکذالک الیوم تنسیٰ۔ وکذالک نجزی من اسرف ولم یومن بآیٰت ربہ ۔و لعزاب الآخرۃ اشد و ابقیٰ ۔(طٰہٰ: 124۔
ترجمہ :اور جو بھی میری یاد سے غافل ہوتاہے اسے ایک پریشان کن زندگی عطا ہوگی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھاینگے۔وہ کہے گا، اے میرے رب، تونے مجھے اندھا کیوں اٹھایا جبکہ میں آنکھ والا تھا۔خدا کہے گا کہ تیرے پاس میری نشانیاں آئی تھیں مگر تونے انہیں نظر انداز کیا پس آج کے دن تو بھی نظر انداز کیا جائے گا۔اور ہم حد سے گذرنے والے کواللہ کی نشانیوں پر ایمان نہ لانے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب زیادہ شدید اور دیر پا ہے۔
مندرجہ بالا سورۃ کے اندرخدا ذکر سے اعراض کی سزا کے بطور معیشت کی تنگی کی بشارت دیتے ہیں اور یہ بھی کہ قیامت کے دغ  ایسے افراد کو اندھا اٹھایاجائیگا۔
سوال یہ  ہے کہ ذکر سے کیا مراد ہے، صوفیہ کے اوراد و اذکار، مجموعی طور پر وحی الہٰی یا محض قرآن کریم؟۔ قرآن کریم نے بعض لفظ ایسے جامع استعمال کئے ہیں جسکی مختلف تشریحات ممکن ہیں،یہاں ذکر سے اعراض کی جو سزا سنائی گئی ہے اسے سن کر مومن کا دل کانپ اٹھتاہے اور وہ سوچنے لگتاہے کہ یہ کون سا ذکر ہے جس سے غفلت پر اتنی سخت سزا دنیا و آخرت میں دی جائے گی۔سورہ  انبیا  میں بھی کئی جگہ ذکر کا لفظ استعمال کیاگیاہے۔
مایاتیہم من ذکر من ربہم محدث الا ستمعوہ وہم یلعبون۔2
وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیہم فسئلو اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون۔7
ولقد آتینا موسی و ہارون الفرقان و ضیائً و ذکری ً للمتقین۔48
و ہذاذکر مبارک انزلنہ ۔50
اوپر کی تمام آیتوں سے یہ واضح ہے کہ ذکر سے مراد وحی الہی ہے۔ دوسری آیت سے یہ ظاہر ہے کہ تمام انبیا اہل ذکر تھے یعنی انہیں وحی الہی عطا ہوئی تھی۔یعنی ذکر عموی طور پر کلام الہی کے لئے استعمال کیاگیاہے۔قرآن میں ذکر سے مراد خصوصیت کے ساتھ قرآن کریم بھی لیاگیاہے۔
یہاں یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ قرآن میں ذکر سے مراد قرآن کریم بھی ہے  اور قرآن سے پہلے نازل ہونے والے آسمانی صحیفے بھی ہیں اور ان سب کے لئے عذاب کی تنبیہ نازل کی گئی جو اس کے منکر ہوئے۔
سورہ بقرہ کے اندر قرآن کریم کو سرچشمہ ہدایت قرار دیاگیا ہے اور ان لوگوں کے لئے جو بما انزل الیک  (قرآن کریم ) پر اور بما انزل من قبلک (گزشتہ انبیا کی وحی ) دونوں پر ایمان لائے ہیں انعامات کا وعدہ کیاگیا ہے۔
دراصل قرآن کریم کے عہد کے انسانوں کو پچھلی نبوتوں اور وحی الہی پہ ایمان لانا ضروری قراردیاگیا تو عہد قرآن کے عہد قبل کے انسانوں کو قرآن کریم کی طرف رجوع کیاگیا۔ اس طرح مسلمان  زبور ، توریت اور انجیل سے رشتہ استوار کریں اور عہد نبوی سے قبل کی امتیں حضرت محمد ؐ اور انکی کتاب قرآن کریم سے رشتہ استوار کریں۔ صرف اسی صورت میں وحی الہی  کی مطلقیت قائم رہ سکتی ہے۔ لہٰذا ، ذکر سے مراد مطلق وحی الہی ہے اور عبارت محولہ بالا کے اندر جو تہدید اور عذاب ہے وہ مطلق وحی الہی سے اعراض کرنے والوں سے متعلق ہے۔
دین کی روایت ابنیا کے آغاز سے انجام تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ قرآن ، زبور ، انجیل اور توریت سب دین کی مقدس کتابیں ہیں اور تمام ابنیا دین کے بنیادی پتھر۔ ان رسولوں کے مدارج اللہ کے یہا ں الگ الگ ہیں اور ان مقدس کتابوں کے مقامات بھی الگ الگ ہیں لیکن ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم کسی  رسول کو چھوٹا اور کسی رسول کو بڑا نہ سمجھیں  اور تمام کتاب دین کا احترام کریں۔ اس نقطہ نظر سے اعراض ذکر سے اعراض کے ہم معنی ہوگا اور لازماً ایسے اشخاص کی زندگی میں معیشت کی تنگی در آئیگی اور قیامت کے روز اندھا  اٹھا ئے جائینگے ۔
مولینا ابوالکلام آزاد نے اپنی تفسیرمیں اس رائے کا اظہار کیا کہ دین دو تین نہیں بلکہ صرف ایک ہے۔ تمام انبیا ملکر حلقہ دین مکمل کرتے ہیں اور تما م مقدس وحی الہی سے دین کی تعمیر مکمل ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں قرآن کریم کو بما انزل امن قبلک  سے الگ کرنا یا قرآن سے قبل کی وحی الہی کو قرآن سے الگ کرکے پڑھنا رسولوں کے درمیان تفریق قائم رکھنا اور ملتوں کے درمیان  دیوار قائم کرنا تصور دین کو مجروح کرکے رکھ دیگا۔
دراصل تمام انبیا‘ان کی مقدس روایتیں ، تمام کتب مقدسہ اور انکی ہدایتیں ہماری مقدس میراث دین ہیں۔ ان میں سے کسی  رسول کی تنقیص اور کسی کتاب دین سے اعراض وحی الہی سے اعراض ہے اور اسی مجموعی وراثت دین کو ذکر سے تعبیر کیا گیاہے۔
دنیا کے اندر معیشتت کی تنگی میں مبتلا اور میدان حشر میں ٹھوکریں کھاتے ہوئے یہ لوگ وہی ہونگے جنہوں نے آیات ربانی کو بھلائے رکھا اور ذکر سے اعراض کیا۔ وہ میدان حشرمیں جہاں ہر امتی بے یار و مددگار اپنے اپنے رسولوں کا پتہ پوچھ رہا ہوگا اور آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھوں کی طرح بھٹک رہاہوگا وہاں ذکر سے اعراض کرنے والے اندھوں کی رہنمائی کون کرےگا۔ حشر کے میدان کا یہ اندھا پن بہت کریہہ عذاب ہے۔ اللہ ہمیں ذکر کا عرفان  بخشے۔ آمین!
URL:

No comments:

Post a Comment