Saturday, April 11, 2015

The Holy Quran القرآن الکریم

The Holy Quran القرآن الکریم







مولانا عبدالقادر ، ابولمد ثر ناظر
قرآن اللہ کی وہ عظیم کتاب ہے جو اپنی سچائی کے اثبات کے لئے کسی بھی خارجی سہارے کی محتاج نہیں ۔ یہ کتاب اپنے اندر دلائل او ربراہین کا وہ سمندر رکھتی ہے کہ ہر دور کا انسان ریب، شک او رالجھن سےنکل کر ایمان اور یقین کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ نے اس کتاب کی حقانیت کو انفس اور آفاق کے دلائل سے ثابت کردیا ہے۔ ہر نوعیت کے دلائل خواہ وہ تاریخی ہوں، علمی ہوں یا کائناتی اس کتاب کی حقانیت کو ثابت کررہےہیں ۔اس کتاب کی پیش گوئیوں کو زمانہ اپنے مرور کے ساتھ ساتھ ثابت کرتا چلا جارہا ہے ۔ ابتدائے آفرینش سے متعلق جو معلومات اس کتاب نے دی ہیں، سائنس کا معجزانہ ارتقاء بھی اس کے کسی حصہ کی تکذیب نہ کرسکا ۔ تاریخ کے چھپے ہوئے رازوں سے جو پردہ قرآن نے اٹھایا ہے ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیقات بھی اس کو جھٹلا نہ سکی ۔ جس شعبہ میں انسان نے تحقیق کی اس شعبہ سے متعلق قرآنی آیات کی صداقت ہی ثابت ہوئی ۔ کوئی علم اس کتاب کے کسی بھی بیان کی تکذیب نہ کرسکا ۔ یہ کتاب جس کو اللہ نے کائنات کی طرح حق کہا یہ ناطق بالحق کتاب (23:62،45:29) کائناتی حقائق سے یوں ثابت ہوتی چلی جارہی ہے کہ علماء کائنات کو اس اعتراف کے بغیر چارہ کار ہی نہیں کہ یہ کائنات جس اللہ کا عمل ہے ، یقیناً یہ کتاب بھی اسی اللہ کا قول ہے۔
اللہ نے اس کتاب میں چیلنج کیا کہ اس قرآن جیسا لاکر دکھا دو (17:88) اور ( 11:13) اس میں کی دس سورتوں کے مثل لانے کا چیلنج کیا ۔ ( 10:35) اور (2:23) میں کہا کہ اس کے مثال ایک سورۃ ہی لاکر دکھاؤ اور ( 52:34) میں اس کے مثل ایک ہی حدیث لانے کا چیلنج کیا، اور اگر نہ لا سکو تو تسلیم کو لو کہ یہ کتاب من جانب اللہ ہے ۔ کوئی کافر غیر مسلم تو اس چیلنج کا مقابلہ نہ کرسکا ، لیکن مسلمانوں نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ حدیث بھی قرآن کے مثل ہیں اور ایک موضوع حدیث بھی اس عقیدے کے جواز میں گھڑلی گئی ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن و مثلہ و معہ (حدیث)دی گئیں ۔ بخاری کو قرآن کی طرح (30) پاروں میں تقسیم کر کے مثلہُ معہُ قرار دے دیا گیا ۔ یہ ہے ا س کتاب کے ساتھ ظلم کی انتہا ۔
اللہ نے تو اس کتاب کو نور کہا، جس کا مطلب یہ تھا کہ تمام علوم کو اس کی روشنی میں پرکھا جائے گا ۔ احادیث ہوں یا فقہ ان کی صحت کا معیار قرآنی روشنی میں متعین کیا جائے گا۔ لیکن لوگوں نے چودہ علوم کو قرآن پر حاکم یوں ٹھہرایا کہ یقین کرلیا کہ قرآن کو چودہ علوم کی روشنی کے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا ۔ حالانکہ قرآن تو خود نور ہے بھلا اس سورج کو دوسرے علوم کیا چراغ دکھا سکتے ہیں ، یہ تو خود اتنا واضح ہے اتنامبین ہے ایسی فرقان ہے کہ دوسرے علوم کو اس کی روشنی سے جانچا اور پرکھا جائے گا ۔ بھلا نور اور وہ بھی قرآن جیسا کہ اپنےنظر آنے کے لئے کسی دوسری روشنی کا محتاج ہوسکتا ہے؟ ہر گز نہیں !! مذہبی پیشوائیت نے تو بجا ئے احادیث کی صحت کو قرآنی روشنی میں پرکھنے کے الٹا قرآن کو حدیث وفقہ کی روشنی میں دیکھنا شروع کردیا۔ اور سائنس زدہ مغربیت کے شکار افراد نے علوم جد یدہ کی روشنی میں قرآن کو یوں دیکھا کہ اسے بدلتے نظریات کی بھینٹ چڑھا دیا ، یہ کتاب جو خود امام تھی ( 11:7)۔ (46:12) ۔  (12:36) اسے مقام امامت سے ہٹا کر انسانوں کے بنائے ہوئے آئمہ کے اقوال کی روشنی میں پرکھا جا نے لگا۔یہ کتاب جسے سب کے اوپر اس طرح رکھنا چاہیے تھا کہ دیگر کتب کو اس کے ماتحت رکھ کر پرکھا جاسکے لیکن لوگوں نے اس کلام الہٰی کو انسانی کتب کے ڈھیر میں یوں دبا دیا کہ انسانی اقوال ، روایات و آثار تو نمایاں ہوکر عقائد بن گئیں لیکن یہ کتاب لوگوں کی زبان سے قلوب و اذہان کی جانب سفر نہ کرسکی۔ سب سے زیادہ پڑھی جانےوالی یہ کتاب، سب سے کم سمجھی جانے والی کتاب قرار پائی ۔ وہ کتاب جس میں جا بجا تعقل ، تفقہ او رتدبر کا حکم تھا اسے روایات اور شکنجے میں یوں جکڑ دیا گیا کہ اب زمانے کے ابھرتے مسائل کا حل اس کتاب میں نظر ہی نہیں آتا ۔ اسلاف کی وہ آراء جو شاید اپنے زمانے کا ساتھ دے سکتی تھیں ان کو قیامت تک قرآن پر یوں چسپا ں کردیا گیا کہ اجتہاد، تفقہ اور تدبر کا دروازہ بند ہوگیا ۔ قرآن تو تا قیامت رہے گا، ہر دور کے ابھرتے مسائل کا حل قرآن کی ابدی اقدار سے بذریعہ اجتہاد تلاش کرنا علماء کا فرض تھا ، لیکن علماء نے تقلید کو فرض قرار دے کر اپنے قلوب پر تو قفل لگا لئے مگر دوسروں کی فکروں پربھی تالے ڈالنے میں کسر نہیں چھوڑی اس طرح انہوں نے اپنے اس عمل سے قرآن کو بھی زمانے کا ساتھ نہ دینے والی ناقابل عمل کتاب باور کر ا دیا۔
جس نے بھی آگے بڑھ کر قرآن کی مستقل ابدی اقدار سے زمانے کے مسائل کو سلجھانے کی کوشش کی، یا اس کتاب کی مدد سے علوم جدید کا رخ صحیح سمت موڑ نے کی جد وجہد کی جھٹ سے نہ صرف اس پرکفر کا فتویٰ صادر کیا گیا بلکہ اسے تفسیر بالرائے کا مجرم قرار دے کر جہنم کا ابدی مکین بھی ٹھہرا دیا گیا ۔ قرآن جو کچلی ہوئی انسانیت کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کےلئے آیا تھا اس کی انقلابیت کو ختم کر کے ارباب مذاہب نے اسی کتاب سے غلامی کے جواز نکالنا شروع کردیئے اور جب اپنا مشن اس کتاب سے پورا ہوتا نظرنہ آیا تو اس کتاب حکیم کو ناقص ( نامکمل) قرار دے کر دیگر کتب کو اس کا تتمہ و تکملہ ثابت کرنے پر ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ۔ بقول علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ :
حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقہیان حرم بے توفیق
ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
دور جدید قدیم کے جن مفسرین نے قرآنی آیات کو اسلاف کے اقوال و آثار کی جکڑ بندی و آراء کر کے خالص تصریف آیات کے ذریعہ قرآن کی ترجمانی کی کوشش کی ان پر تو فوراً تفسیر بالرائے کا فتویٰ صادر کیا گیا حالانکہ تفسیر باالرائے کےجرم کا ارتکاب تو انہوں نے کیا تھا جن کے اقوال سے ذخیرہ تفسیر بھرا پڑا ہے ۔ ایک ایک آیت کی تفسیر میں دس دس متضاد اقوال پائے جاتے ہیں میں نے قرآنی آیات کے ترجمہ میں نہ تو اسلاف کی او رنہ ہی اپنی رائے داخل کی ہے بلکہ تصریف آیات کے فارمولے کو سامنے رکھ کر اللہ نے جس طرح خود اپنی آیات کو واضح کیاہے اسی مناسبت سے ترجمہ کردیا ہے ترجمہ کرتے وقت سیاق و سباق کو بھی فراموش نہیں کیا گیا ۔ کیونکہ یہ بے ربط نہیں بلکہ مربوط کتاب ہے ( 28:51)۔
اپریل، 2015 بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی